مجھے زکوٰۃ کے بارے میں رہنمائی چاہیے۔
پہلے میرے پاس 15 تولہ سونا تھا جو گھر والے استعمال کر رہے ہیں۔
پھر گزشتہ سال جون 2025 میں میں نے 5 تولہ سونا (24 قیراط) خریدا، اور دوبارہ جولائی 2025 میں مزید 5 تولہ لیا۔
پھر پچھلے سال نومبر میں میں نے مزید 5 تولہ سونا خریدا۔ اس طرح نیا اور غیر استعمال شدہ سونا میرے پاس کل 15 تولہ ہے۔
اور پرانا اور استعمال شدہ سونا 15 تولہ ہے۔
مجموعی طور پر کل سونا 30 تولہ بنتا ہے
استعمال شدہ سونا (15 تولہ) میرے پاس ایک سال سے زیادہ عرصہ سے موجود ہے، اس لیے مجھے معلوم ہے کہ اس پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کس قیمت کے مطابق زکوٰۃ ادا کروں؟ یعنی اس سونے کی مارکیٹ ویلیو تقریباً نئے سونے کی موجودہ قیمت کا نصف ہے۔
میں نے اندازہ لگایا کہ زکوٰۃ کی رقم کافی زیادہ بن رہی ہے جسے میں ماہانہ تنخواہ سے ایک ساتھ ادا نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں نے جولائی سے ہر ماہ 15000 روپے زکوٰۃ کی نیت سے دینا شروع کر دیے۔ اب تک میں 85000 روپے ادا کر چکا ہوں (میں نے پرانے 15 تولہ استعمال شدہ سونے کی قیمت نئے سونے کی قیمت کا نصف لگا کر حساب کیا تھا)۔ چونکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ سونا کم از کم ایک سال تک میرے پاس رہے گا، اس لیے میں نے سال مکمل ہونے سے پہلے ہی زکوٰۃ دینا شروع کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک زکوٰۃ قسطوں میں اور سال مکمل ہونے سے پہلے ادا کرنا درست ہے؟
آخری سوال یہ ہے کہ نیا سونا (5+5+5 = 15 تولہ) میرے پاس ہے لیکن اس پر ایک سال مکمل نہیں ہوا۔ تو کیا جون 2025 سے موجود اس 15 تولہ نئے سونے پر آنے والے پہلے رمضان میں زکوٰۃ فرض ہوگی؟
براہِ کرم اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں
واضح ہو کہ اموال زکوۃ میں سے مال کے ہر جز پر قمری سال کا گزرنا ضروری نہیں،بلکہ صاحب نصاب ہونے کے بعد اگلے سال کی ادائیگی زکوۃکی تاریخ سے قبل جو بھی مال حاصل ہوجائےاس مجموعی مال کی مارکیٹ ویلیوکے مطابق اس کا حساب لگا کرڈھائی فیصد کے اعتبار سےزکوۃ کی ادئیگی لازم ہوتی ہے،لہذا سائل کے پاس ادئیگی زکوۃ کے لئے متعین کردہ تاریخ کو جس مقدار میں سونا موجود ہوگا ، اس تمام سونے کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوۃ سائل پر لازم ہوگااس میں قیمت خرید یا گزشتہ سالوں کی قیمت کا اعتبار نہ ہوگا۔جبکہ سائل کے لئے اگر یکمشت زکوۃ کی ادئیگی مشکل ہو تو قسطوار زکوۃ کی ادئیگی کی بھی گنجائش ہے،اسی طرح ادائیگی زکوۃ کی تاریخ سے قبل ایڈوانس زکوۃ ادا کرنا بھی بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الدر المختار: وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح اھ
وفی الرد تحت قولہ( وهو الأصح) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء.اھ
وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ (کتاب الزکاۃ باب زکاۃ الغنم، ج:2،ص:286مط:ایچ ایم سعد)
وفیہ ایضاً: (وحولها) أي الزكاة (قمري) بحر عن القنية(لا شمسي)اھ(کتاب الزکاۃ باب زکاۃ المال ج:2ص:295)
وفی البنایۃ: وإن قدم الزكاة على الحول وهو مالك للنصاب جاز) ش: بأن قدم المالك الزكاة قبل حولان الحول والحال أنه مالك لقدر النصاب جاز تقديمه م: (لأنه أدى بعد سبب الوجوب فيجوز) ش: سبب الوجوب هو النصاب ولأنه حق يؤجل كالدين المؤجل، وبقولنا: قال الشافعي، وأحمد، وإسحاق، وأبو ثور، وهو قول الحسن البصري، والنخعي، والزهري، والثوري، والشعبي، ومجاهد، والحاكم، وابن أبي ليلى، وسعيد بن جبير، والحسن بن حي رحمهم الله م: (كما إذا كفر بعد الجرح) ش: قيد الموت لوجود السبب وهو الجرح (کتاب الزکاۃ باب حکم تقدیم الزکاۃ علی الحول،ج:3،ص:363،مط: دار الكتب العلمية بيروت)
وفی الدر المختار(وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل: فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر (وترد شهادته) لأن الأمر بالصرف إلى الفقير معه قرينة الفور وهي أنه لدفع حاجته وهي معجلة، فمتى لم تجب على الفور لم يحصل المقصود من الإيجاب على وجه التمام، وتمامه في الفتح.(قوله: وافتراضها عمري) قال في البدائع: وعليه عامة المشايخ، ففي أي وقت أدى يكون مؤديًا للواجب، ويتعين ذلك الوقت للوجوب، وإذا لم يؤد إلى آخر عمره يتضيق عليه الوجوب، حتى لو لم يؤد حتى مات يأثم واستدل الجصاص له بمن عليه الزكاة إذا هلك نصابه بعد تمام الحول والتمكن من الأداء أنه لايضمن، ولو كانت على الفور يضمن كمن أخر صوم شهر رمضان عن وقته فإن عليه القضاء اھ(کتاب الزکاۃ،ج:2،ص:271،ط:سعید)