زکوۃ و نصاب زکوۃ

گروی رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
91979
| تاریخ :
2026-02-10
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گروی رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ دینے کا حکم

میرے پاس پچیس لاکھ (2500000)روپے تھے، جن میں سے میں نے بیس لاکھ کا گھر گروی پہ لیاہے،ابھی ستمبر 2025 میں ،کیا جس بیس لاکھ کا گھر گروی پہ لیا ہے، اس سال کیلئے، اس مالیت پر میں نے زکاۃ دینی ہے؟یہ اماؤنٹ اس گھر کے مالک کو دی ہے،اس سال کیلئے،اور مہینے کا وہ 7000 رینٹ بھی لے رہاہے!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ گروی پر گھر لینے سے کیا مراد ہے؟تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر سائلہ نے مذکور مکان کرایہ پر لیا ہو اور مذکور رقم بطور ایڈوانس مالک مکان کے حوالہ کرنیکی وجہ سے کرایہ میں کمی کی گئی ہو، تو چونکہ ایڈوانس رقم بھی فقہی لحاظ سے قرض ہے،اور قرض پر کسی بھی قسم کا نفع حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں،بلکہ یہ سود ہونے کی وجہ سے حرام اور گناہ کبیرہ ہے، لہذا سائلہ کو چاہئے کہ اس معاملہ کو جلد ازجلد ختم کرکے نئے سرے سے جائز طریقہ پر معاملہ کرے،البتہ مذکور رقم چونکہ قرض ہے،اور قرض کی رقم پر بھی زکوٰۃ لازم ہوتی ہے ،لہذا سائلہ کو چاہئے کہ اپنی زکوٰۃ کا حساب لگاتے وقت اس رقم کو بھی شامل کرکے اس کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنےکا اہتمام کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: (ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) أي محكوم بإفلاسه (أو) على (جاحد عليه بينة) وعن محمد لا زكاة، وهو الصحيح، ذكره ابن ملك وغيره لأن البينة قد لا تقبل (أو علم به قاض) سيجيء أن المفتى به عدم القضاء بعلم القاضي (فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى)
وفی الرد تحت قولہ: (و ھو الصحیح): قلت: ونقل الباقاني تصحيح الوجوب عن الكافي قال: وهو المعتمد، وإليه مال فخر الإسلام اهـ ولذا جزم به في الهداية والغرر والملتقى وتبعهم المصنف.اھ(کتاب الزکوٰۃ،ج:2،ص:266، ط: سعید)
وفیہ ایضا: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم،الخ(کتاب الزکوٰۃ،باب زکاۃالمال،ج:2،ص:305،ط:سعید)
وفی تبیین الحقائق: (وكره السفاتج) وهو قرض استفاد به المقرض أمن خطر الطريق وصورته أن يقرض ماله إذا خاف عليه الفوات ليرد عليه في موضع الأمن وهو تعريب سفته وسفته شيء محكم وسمي هذا القرض به لإحكام أمره وإنما كره لما روي أنه عليه الصلاة والسلام «نهى عن قرض جر نفعا، الخ(آخر کتاب الحوالۃ،ج:4،ص:175،ط:المکتبۃ الکبری بیروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91979کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات