زکوۃ و نصاب زکوۃ

درمیان سال میں حاصل ہونے والی رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
92072
| تاریخ :
2026-02-12
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

درمیان سال میں حاصل ہونے والی رقم پر زکوۃ کا حکم

میں کاروبار کرتا ہوں، کسی مہینے آمدن زیادہ ہوتی ہے اور کسی مہینے کم۔ جو بھی پیسے آتے ہیں وہ بینک اکاؤنٹ میں آتے ہیں۔ ہر مہینے خرچہ کرنے کے بعد باقی پیسے محفوظ کر لیتا ہوں۔ اسی وجہ سے ہر مہینے اکاؤنٹ کا بیلنس بدلتا رہتا ہے۔
20 فروری 2025 کو میرے بینک اکاؤنٹ میں 3 لاکھ روپے تھے۔ 20 فروری 2026 کو میرے اکاؤنٹ میں 7.5 لاکھ روپے موجود ہیں۔
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اس رقم کا اندازہ کیسے کروں جس پر ایک سال گزر چکا ہو، کیونکہ میرے علم کے مطابق زکوٰۃ اسی رقم پر واجب ہوتی ہے جس پر پورا سال گزر جائے۔

کاروبار کی نوعیت: میری کوئی دکان یا فزیکل کاروبار نہیں ہے۔ میں آن لائن کام کرتا ہوں اور سروسز فروخت کر کے اس کی اُجرت لیتا ہوں۔

کیا یہ بات درست ہے؟اگر پورے سال کے دوران رقم مکمل طور پر نصاب سے کم نہیں ہوئی،
تو بینک اکاؤنٹ کے بیلنس میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے زکوٰۃ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ایسی صورت میں 20 فروری 2026 کو اکاؤنٹ میں جتنی بھی رقم موجود ہو،
اسی پوری رقم کا 2.5٪ زکوٰۃ کے طور پر ادا کیا جائے گا۔

یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کون سی رقم پر پورا سال گزر چکا ہے اور کون سی رقم پر نہیں
میں نے دو ماہ پہلے ڈیڑھ لاکھ روپے اسٹاک میں سرمایہ کاری کی ہے، جس پر نفع کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتا رہتا ہے۔

اس پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایک دفعہ صاحبِ نصاب بن جانے کے بعد درمیانِ سال أموالِ زکوٰۃ میں اضافہ ہو جانے کی صورت میں ہر مال پر الگ سے سال گزرنا لازم نہیں، بلکہ سال کے اختتام پر ملکیت میں موجود ٹوٹل أموالِ زکوٰۃ پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینا لازم ہے، چنانچہ صورت مسؤلہ میں سائل اگر 20 فروری 2025 کو تین لاکھ روپے کیساتھ صاحب نصاب بن چکا تھا ،اور درمیان سال یہ مال مکمل طور پر ختم بھی نہ ہوا ہو تو عیسوی سال کے بجائے قمری سال مکمل ہونے پر اس کے اکاؤنٹ میں جتنی بھی رقم ہو، اس سب پر زکوۃ کی ادائیگی شرعاً لازم ہوگی، اگر چہ ہر ہر روپیہ پر مستقل سال نہ گزرا ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

وکمافی حاشیۃ ابن العابدین : وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (‌حولان ‌الحول) ‌وهو ‌في ‌ملكه ،ألخ( کتاب الزکوٰۃ ، ج:2 ص:267 ،مط:سعید)
وفی درر الحکام : ‌من ‌كان ‌له ‌نصاب فاستفاد في أثناء الحول من جنسه ضمه إليه وزكاه به فمن كان له مائتا درهم في أول الحول وقد حصل في وسطه مائة درهم يضم المائة إلى المائتين ويعطي زكاة الكل ،اھ( نصاب الخیل ، ج:1 ص : 179 مط: دار احیاء الکتب العربیة )
وفی الفتاوی الہندیة: "قالوا الأجير المشترك من يستحق الأجر بالعمل لا بتسليم نفسه للعمل ."(کتاب الاجارۃ، ج:4، ص:500، ط:دارالفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92072کی تصدیق کریں
0     26
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات