میری بیوی کے پاس 6.78 تولہ سونا ہے ،جو اسے شادی کے وقت ملا تھا۔ اس سونے کے علاوہ بیوی کے پاس کوئی نقد رقم نہیں ہے۔ ماہانہ جیب خرچ اور بچوں کے اخراجات کے لیے شوہر رقم دیتا ہے جو مہینے کے دوران خرچ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس نہ کوئی رقم جمع ہے اور نہ ہی چاندی۔ کیا اس سونے پر زکوٰۃ واجب ہے؟
سائل کی بیوی کے پاس اگر زکوٰۃ کی تاریخ آنے پر فقط یہی مقدار سونا ہو جو ساڑھے سات تولہ سے کم ہے اور اس کی ملکیت میں اس سونے کے علاوہ کوئی اور مالِ زکوٰۃ (چاندی، نقدی یا مالِ تجارت میں سے) کچھ بھی موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر ساڑھے سات تولہ سے کم سونے پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہ ہوگی۔
كما في بدائع الصنائع:فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال؛ لما روي في حديث عمرو بن حزم «والذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر» وكان الدينار على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقوما بعشرة دراهم. وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعلي: «ليس عليك في الذهب زكاة ما لم يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال» وسواء كان الذهب لواحد أو كان مشتركا بين اثنين أنه لا شيء على أحدهما ما لم يبلغ نصيب كل واحد منهما نصابا عندنا، خلافا للشافعي(فصل مقدار الواجب في زكاة الذهب ، ج:٢،ص:١٨،مط:سعيد)