اگرکسی مستحق زکوۃ کو زکوۃ دیا گیا تاکہ وہ کسی رفاعی ادارے کو ھدیہ کریں اپنی مرضی سے مگر مستحق نے اس زکوۃ کو قبول کرنے کے بعد اپنی بیوی کی طرف سے کسی دوسرے مستحق کو زکواۃ دے دیا اور کہا کہ یہ میری بیوی کی طرف سے زکوۃ ہے اور اس کو قبول کرکے فلاں رفاعی ادارے کو اپنی خوشی سے دے دیں تو اس صورت میں اس پہلے مستحق کی بیوی کی طرف سے زکوۃ اداہو جائے گی یا نہیں ؟ ۔ بینوا توجروا
صورت مسؤلہ میں اگر پہلے شخص کو زکوٰۃ کی رقم یہ کہہ کر دی گئی ہو کہ وہ یہ رقم کسی رفاعی ادارے کو دیدے تو ایسی صورت میں مذکور شخص کی حیثیت وکیل کی تھی، چنانچہ اس صورت میں مذکور شخص کا اپنی بیوی کی طرف سے یہ رقم کسی مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کی مد میں دیدینے سے بیوی کی زکوٰۃ اداء نہ ہوگی، البتہ اگر مذکور شخص کو زکوٰۃ کی رقم باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدی گئی تھی، تو ایسی صورت میں مذکور شخص زکوٰۃ کی رقم کا مالک بن چکاتھا، چنانچہ اس کے بعد اگر اس نے بیوی کی اجازت سے مذکور رقم کسی مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کی مد میں دیدی ہو تو اس سے اگرچہ مذکور شخص کی بیوی کی طرف سے زکوٰۃ اداء ہوچکی ہے، تاہم زکوٰۃ چونکہ ایک عظیم عبادت ہے، اس لئے زکوٰۃ کی رقم براہ راست مستحق افراد تک پہنچانے کے بجائے اس کے لئے اس طرح کے حیلے کرنا قطعا مناسب نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی کنز الدقائق: هي تمليك المال من فقيرٍ مسلمٍ غير هاشميٍّ ولا مولاه، بشرط قطع المنفعة عن المملّك من كلّ وجهٍ اھ( کتاب الزکوٰۃ، ج: 1،ص: 203، ط: دارالسراج )
وفی رد المحتار تحت قولہ (قوله إذا وكله الفقراء) لأنه كلما قبض شيئا ملكوه وصار خالطا مالهم بعضه ببعض ووقع زكاة عن الدافع اھ ( کتاب الزکوٰۃ، ج: 2، ص: 269، ط: سعید )
وفی البحر الرائق: وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا إلا إذا قال ضعهاحيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية ( باب شروط اداء الزکوۃ، ج: 2، ص: 227، ط: دارالکتب الاسلامی)
و فی الھندیہ: ھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی (کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 170، ط: ماجدیہ)