"السلام وعلیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ "میرا سوال زکاۃ کےمصرف کے بارے میں ہے کہ میرے مامو ں کی بیٹی یتیم ہے، اور میں ان کی شادی پر اپنی مالِ زکاۃ کے ذریعے کھانا کھلا سکتاہوں یا شادی کی کسی دوسری ضروریات پر خرچ کرنا بہتر ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی ماموں زاد بہن مستحقِ زکاۃ ہو، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کےبقدر نقدی،مال تجارت یازائدازضرورت سامان موجودنہ ہو، تو سائل کے لیے اسے زکاۃ دینا جائز ہے، بلکہ رشتہ دار ہونے کی وجہ سے زیادہ باعثِ اجر ہے۔
البتہ زکاۃ کی رقم براہِ راست کھانا کھلانے یا دعوتِ ولیمہ وغیرہ کے اجتماعی اخراجات میں صرف کرنا درست نہیں، کیونکہ زکاۃ کی ادائیگی کے لیے مستحق کو مال کا مالک بنانا (تملیک) ضروری ہے۔ لہٰذا بہتر صورت یہ ہے کہ زکاۃ کی رقم یا اس سے خریدی گئی ضروری اشیاء (مثلاً کپڑے، گھریلو سامان یا شادی کی بنیادی ضروریات) اس مستحق لڑکی کے قبضہ و ملکیت میں دے دی جائیں، پھر وہ اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرے،تواس صورت میں سائل کی زکاۃ درست اداہوجائے گی۔
کما فی الدرالمختار : وشرعا (تمليك)خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم اھ۔ (کتاب الزکوۃ، ج:2، ص:257، م:سعید)
وفیہ ایضاً : ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)لعدم التمليك وهو الركن اھ۔(باب مصرف الزکاۃ والعشر، ج:2، ص393، م:سعید)
وفیہ ایضاً : (ھو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة اھ۔ (باب مصرف الزکاۃ والعشر، ج:2، ص:339، م:سعید)