زکوۃ و نصاب زکوۃ

وراثتی زمین کو فروخت کرنے کی صورت میں زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
92461
| تاریخ :
2026-02-21
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

وراثتی زمین کو فروخت کرنے کی صورت میں زکوۃ کا حکم

والد صاحب کی وفات کے بعد ٢٠٢١ میں وارثت میں میرے حصہ میں کئی ایکڑ زرعی زمین آئی جس کا کچھ حصہ والد صاحب کی زندگی میں ہی رہائشی پلاٹوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا جبکہ باقی زمین جس کی نوعیت بھی زرعی ہے اسے بھی اب پلاٹس بنا کر فروخت کیا جا رہا ہے یعنی میں نے اسے مال تجارت میں تبدیل کر لیا ہے ۔ کیا اس وراثتی زمین پر زکوۃ ہو گی اور کس شرح سے ادا کی جائے گی ؟ جس میں سے کچھ حصہ ابھی زرعی ہے اور کچھ پلاٹس کی شکل میں موجود ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور زمین سے متعلق فقط تجارت کی نیت کرنے سے اس زمین کی زکوٰۃ سائل پر لازم نہ ہوگی، البتہ اس زمین کی فروختگی کے بعد جو رقم سائل کو حاصل ہوگی، اگر وہ بقدرِ نصاب ہو تو اس پر قمری سال مکمل ہونے پر یا دیگر اموالِ زکوٰۃ پر ادائیگیِ زکوٰۃ کی تاریخ میں اس رقم میں سے موجود رقم پر ا ادائیگیِ زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار:(لايبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارة عمل فلا تتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها (وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل (إلا الذهب والفضة) والسائمة۔
وفی رد المحتار: ( (قوله لا ما ورثه) قال في النهر: ويلحق بالإرث ما دخله من حبوب أرضه فنوى إمساكها للتجارة فلا تجب لو باعها بعد حول. اهـ. (قوله أي ناويا) قال في النهر: يعني نوى وقت البيع مثلا أن يكون بدله للتجارة ولا تكفيه النية السابقة كما هو ظاهر ما في البحر. اهـ. (قوله: فتجب الزكاة) أي إذا حال الحول على البدل ط.( ‌‌كتاب الزكاة،ج:٢،ص:٢٧٢،ط:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92461کی تصدیق کریں
0     117
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات