زکوۃ و نصاب زکوۃ

تھوڑی تھوڑی کرکے زکوۃ دینے اور قسطوں پر خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
92465
| تاریخ :
2026-02-22
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

تھوڑی تھوڑی کرکے زکوۃ دینے اور قسطوں پر خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

وعلیکم السلام، مولانا صاحب! میں زکوٰۃ کے متعلق رہنمائی چاہتا ہوں۔
اوّل یہ کہ میں رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتا ہوں اور رمضان کے پہلے دن جو زکوٰۃ کا ریٹ ہوتا ہے، اُس کے حساب سے اپنی زکوٰۃ کا حساب لگا لیتا ہوں۔ چونکہ میں ملازم پیشہ ہوں اور اتنا سرمایہ نہیں ہوتا کہ زکوٰۃ ایک ساتھ ادا کر سکوں، اس لیے وقتاً فوقتاً زکوٰۃ ادا کرتا رہتا ہوں یہاں تک کہ پوری ادا ہو جائے۔ کیا میرا یہ عمل درست ہے کہ شروع میں ہی زکوٰۃ کا حساب کر لوں، یا جب جب ادا کروں اُس دن سونے کا ریٹ معلوم کر کے حساب کروں؟
دوسرا یہ کہ میں نے ایک دوست کے ساتھ مل کر قسطوں پر دو پلاٹ خریدے ہیں۔ ایک کی مکمل ادائیگی کر دی ہے جبکہ دوسرے کی آدھی ادائیگی کی ہے، اور دونوں پلاٹس کا ہمیں ابھی قبضہ بھی نہیں ملا۔ تو کیا مجھے ان پلاٹس پر زکوٰۃ دینی ہوگی؟ اور اگر دینی ہوگی تو کس حساب سے دینی ہوگی؟ عرض کرتا چلوں کہ پلاٹ بیچنے کی نیت سے لیے ہیں۔ شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو كہ اموال زکوۃ پر قمری سال پورا ہونے کی صورت میں واجب الاداء زکوۃ کی ادائیگی شرعا لازم ہوجاتی ہے، اور اس واجب الاداء رقم کو جلد سے جلد ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، تاہم اس رقم کی یکمشت ادائیگی چونکہ شرعا لازم اور ضرور نہیں، اس لیے اگر یہ رقم اس قدر زیادہ ہو، کہ اس کی یکمشت ادائیگی میں دشواری ہو، تو حسب سہولت تھوڑی تھوڑی کرکے بھی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔تاہم بلاعذر اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنا مناسب نہیں، جبكہ جو پلاٹ یا جائیداد وغیرہ خریداری کے وقت تجارت (آگے بیچنے کی نیت) سے خریدلى جائے تو اموال تجارت ہونے کی وجہ سے اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے، لہذا سائل نے اپنے دوست کے ساتھ ملکر جو پلا ٹ تجارتی غرض سے خریدے ہیں اگر ان پلاٹون کی پیمائش معلوم اور جگہ متعین ہو تو اس پر قبضہ ملنے سے قبل بھی ملکیت ثابت ہونے کی وجہ سے اس پر زکوۃ واجب ہوگی، تا ہم سائل كو اختیار ہوگا کہ ہر سال اس کی مارکیٹ ویلو پر زکوۃ ادا کرتا رہے یا قبضہ ملنے پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کرے، جبکہ جس پلاٹ کی قسطیں باقی ہیں ادائیگی زکوۃ کے وقت فقط اس میں سے رواں سال کی واجب الادا قسطوں کو منہا کریں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية، (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر (وترد شهادته) لأن الأمر بالصرف إلى الفقير معه قرينة الفور وهي أنه لدفع حاجته وهي معجلة، فمتى لم تجب على الفور لم يحصل المقصود من الإيجاب على وجه التمام، وتمامه في الفتح اهـ
وفی رد المحتار تحت قوله: (وافتراضها عمري) قال في البدائع وعليه عامة المشايخ، ففي أي وقت أدى يكون مؤديا للواجب، ويتعين ذلك الوقت للوجوب، وإذا لم يؤد إلى آخر عمره يتضيق عليه الوجوب، حتى لو لم يؤد حتى مات يأثم واستدل الجصاص له بمن عليه الزكاة إذا هلك نصابه بعد تمام الحول والتمكن من الأداء أنه لا يضمن، ولو كانت على الفور يضمن كمن أخر صوم شهر رمضان عن وقته فإن عليه القضاء اهـ (كتاب الزكاة، ج:2 ص:271 ط: سعيد)
وفي بدائع الصنائع: وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة لما ذكرنا فيما تقدم بخلاف الذهب والفضة فإنه لا يحتاج فيهما إلى نية التجارة؛ لأنها معدة للتجارة بأصل الخلقة فلا حاجة إلى إعداد العبد ويوجد الإعداد منه دلالة على ما مر اهـ (كتاب الزكاة، فصل أموال التجارة، فصل صفة نصاب التجارة، ج:2 ص:21 ط: سعيد])
وفي البحر الرائق: وقدمنا أن المبيع قبل القبض لا تجب زكاته على المشتري وذكر في المحيط في بيان أقسام الدين أن المبيع قبل القبض، قيل: لا يكون نصابا؛ لأن الملك فيه ناقص بافتقاد اليد، والصحيح أنه يكون نصابا؛ لأنه عوض عن مال كانت يده ثابتة عليه، وقد أمكنه احتواء اليد على العوض فتعتبر يده باقية على النصاب باعتبار التمكن شرعا اهـ فعلى هذا قولهم: لا تجب الزكاة معناه قبل قبضه وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي اهـ (كتاب الزكاة، شروط وجوب الزكاة، ج:2 ص:225 ط: دار الكتاب الإسلامي)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92465کی تصدیق کریں
1     49
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات