زکوۃ و نصاب زکوۃ

کرایہ پر دئیے ہوئے فلیٹ اور خواتین کے استعمال والے زیور پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
92526
| تاریخ :
2026-02-23
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کرایہ پر دئیے ہوئے فلیٹ اور خواتین کے استعمال والے زیور پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم، سوال: ایک فلیٹ دسمبر 2025 کو اپنے ذاتی سرما ے اور کمپنی سے پرویڈینڈ فنڈ لے کر خریدا ۔اب اس فلیٹ کوکرایہ پر لگانے ارادہ ہے ۔ آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ اس Property پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ۔ اس جائیداد کے علاوہ اور کوئی Property نہیں ہے ۔ زیورات: اسکے علاوہ خواتین کے پاس جو استعمال کے لیے زیورات ہیں اُس کا کیا حکم ہے، شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمایں)

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی مکان کے خرید تے وقت اگر تجارت کی نیت نہ ہو تو ایسے مکان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ،لہذا مذکور فلیٹ چونکہ تجارت کی نیت سے نہیں خریدا گیا ،بلکہ کرایہ پر دینے کی غرض سے خریدا گیا ہے ،اس لیے شرعاً اس فلیٹ پر زکوۃ لازم نہیں ،البتہ اسکے علاؤہ خواتین کے استعمالی زیورات سے متعلق حکم کی تفصیل یہ ہے کہ کسی خاتون کی ملکیت میں بقدر نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ سونا موجود ہو یا وہ زیورات ساڑھے سات تولہ سے کم ہوں،مگر اس کے ساتھ کچھ نقدی یا مال تجارت وغیرہ بھی خاتون کی ملکیت میں ہو ،اور ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جاتی ہو ،تو قمری سال مکمل ہونے پر اس مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بھی بطور زکوۃ نکالنا لازم ہوگا ، تاہم اگر خواتین کی ملکیت میں فقط زیورات موجود ہوں اس کے ساتھ دیگر أموال زکوۃ میں سے کچھ نہ ہو ،یا ہو مگر ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کو نہ پہنچتی ہو تو ایسی صورت میں خواتین پر ان زیورات کی زکوۃ لازم نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: (ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضةاھ(کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج: 1،ص: 172،مط: دار الفکر بیروت۔)
و فی رد المحتار: وليس في ‌دور ‌السكنى ‌وثياب ‌البدن ‌وأثاث ‌المنازل ‌ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية. اهـ.(کتاب الزکاۃ،ج: 2،ص: 262،مط: دار الفکر بیروت۔)
وفی الدرالمختار: (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا اھ( ‌‌باب زكاة المال،ج: 2،ص: 297،مط: دار الفکر بیروت۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92526کی تصدیق کریں
0     116
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات