زکوۃ و نصاب زکوۃ

ٹیکس کی مد میں ملنے والی رقم زکوۃ سے منہا کرنا

فتوی نمبر :
92531
| تاریخ :
2026-02-23
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ٹیکس کی مد میں ملنے والی رقم زکوۃ سے منہا کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ خیریت اور عافیت سے ہوں۔ میں ایک اہم معاملے میں آپ سے شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں جو زکوٰۃ اور کارپوریٹ ٹیکس سے متعلق ہے۔ ہم ہر سال اپنی کمپنی کے اثاثوں اور سرمایہ پر باقاعدگی سے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور یہ رقم مختلف مستحق اداروں اور افراد کو دی جاتی ہے۔ میں پاکستانی ہوں اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں مقیم ہوں اور یہیں کاروبار کر رہا ہوں۔ متحدہ عرب امارات کے کارپوریٹ ٹیکس قوانین کے مطابق اگر ہم زکوٰۃ کسی غیر منظور شدہ (Non-Approved) ادارے کو ادا کریں تو ہمیں کوئی ٹیکس رعایت حاصل نہیں ہوتی۔ نتیجتاً ہمیں زکوٰۃ کی رقم منہا کیے بغیر مجموعی آمدنی (Gross Income) پر کارپوریٹ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جس سے ہماری مجموعی ٹیکس ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ البتہ اگر زکوٰۃ حکومت سے منظور شدہ ادارے کو ادا کی جائے تو زکوٰۃ کی رقم پر 9٪ کے برابر ٹیکس میں رعایت ملتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم 10,00,000 درہم زکوٰۃ کسی منظور شدہ ادارے کو ادا کریں تو تقریباً 90,000 درہم ٹیکس میں کمی ہو جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جن اداروں کو ہم زیادہ مستحق سمجھتے ہیں وہ زیادہ تر پاکستان میں ہیں اور وہ یو اے ای حکومت سے منظور شدہ نہیں ہیں۔ اگر ہم ان غیر منظور شدہ اداروں کو زکوٰۃ ادا کریں تو ہمیں کوئی ٹیکس فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ میرا اصل سوال یہ ہے کہ: اگر ہم زکوٰۃ غیر منظور شدہ اداروں کو ادا کریں اور اس وجہ سے ہمیں 9٪ ٹیکس کی رعایت حاصل نہ ہو، تو کیا شرعاً یہ جائز ہے کہ ہم زکوٰۃ کی کل رقم میں سے وہ 9٪ کم کر دیں جو ہمیں منظور شدہ ادارے کو زکوٰۃ دینے کی صورت میں بطور ٹیکس فائدہ مل سکتی تھی؟ یعنی کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ منظور شدہ ادارے کو دینے کی صورت میں ہمیں 90,000 درہم کا ٹیکس فائدہ ملتا، اس لیے اگر ہم غیر منظور شدہ مگر زیادہ مستحق اداروں کو زکوٰۃ دیں تو ہم اتنی رقم زکوٰۃ میں سے کم ادا کریں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس بارے میں واضح اور مفصل رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زکوٰۃ شریعت کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ ہے جس کی مقدار شریعتِ مطہرہ نے نصاب اور قابلِ زکوٰۃ اموال کے اعتبار سے مقرر فرمائی ہے، اس لئے جب کسی پر زکوۃ کی تاریخ آنے پر جتنی مقدار زکوۃ کی ادائیگی واجب ہو جائے تو زکاۃ کی اس مقدار کو مستحقین تک پورا پہنچانا شرعاً ضروری ہے ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ادائیگیِ زکاۃ کی تاریخ کو سائل پر جتنی مقدار زکاۃ کی ادائیگی لازم ہوئی ہے، اس کو مکمل طور پر مصرف زکوۃمیں دینا لازم ہے، اس میں ٹیکس ریسیف کے بقدر رقم کی کمی کرنا جائز نہیں، ورنہ اس قدر زکاۃ سائل کے ذمہ برقرار رہے گی، اس لیے اس طرزِ عمل سے اجتناب ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى:وَفِيٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ حَقّٞ لِّلسَّآئِلِ وَٱلۡمَحۡرُومِ(سورة الذاريات:١٩)
وفي تفسير القرطبي: (والذين في أموالهم حق معلوم. للسائل والمحروم) والحق المعلوم هو الزكاة التي بين الشرع قدرها وجنسها ووقتها الخ(سورة الذاريات (٥١): آية ١٩،ج:١٧،ص:٣٨،ط:دار الكتب المصرية)
وفي مشكاة المصابيح: عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «قد عفوت عن الخيل والرقيق ‌فهاتوا ‌صدقة ‌الرقة ‌من ‌كل ‌أربعين ‌درهما ‌درهم، وليس في تسعين ومائة شيء، فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم» ". رواه الترمذي، وأبو داود(‌‌باب ما يجب فيه الزكاة:الفصل الثاني،ج:١،ص:١٥٩،ط:قديمى كتب خانه)
وفي مرقاة المفاتيح: (فإذا كانت) أي الرقة أو الورق (مائتي درهم) قال ابن الهمام: سواء كانت مسكوكة، أو لا، وفي غير الذهب والفضة لا تجب الزكاة، ما لم تبلغ قيمته نصابا مسكوكا من أحدهما، لأن لزومها مبني على التقوم، والعرف أن يكون بالمسكوك، وكذا نصاب السرقة احتياطا للدرء (ففيها) أي حينئذ (خمسة دراهم فما زاد) أي على أقل نصاب اھ(باب ما يجب فيه الزكاة،ج:٤،ص:٣٠٩،ط:المكتبة الغفارية)
وفي بدائع الصنائع: أما الأول فالدليل على فرضيتها الكتاب، والسنة، والإجماع، والمعقول الكتاب فقوله تعالى {وآتوا الزكاة} [البقرة: 43] ، وقوله عز وجل {خذ من أموالهم صدقة تطهرهم وتزكيهم بها} [التوبة: 103] وقوله عز وجل {والذين في أموالهم حق معلوم} [المعارج: 24] {للسائل والمحروم} [المعارج: 25] والحق المعلوم هو الزكاة الخ(كتاب الزكاة،ج:٢،ص:،٢،ط:سعيد)
وفي الهندية:(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز اھ(الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:١،ص:١٧٢،ط:ماجديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92531کی تصدیق کریں
0     131
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات