ہر کمپنی میں عام طور پر پراویڈنٹ فنڈ (PF) اور گریجویٹی فنڈ (GF)ہوتا ہے۔ ہمارے پاس بھی یہی دونوں فنڈ موجود تھے۔ سنہ 2013 میں کمپنی نے تمام پراویڈنٹ فنڈ کو رضاکارانہ پنشن فنڈ (Voluntary Pension Scheme - VPS) میں تبدیل کر دیا۔میرا سوال رضاکارانہ پنشن فنڈ کے بارے میں ہے، جو عموماً اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیوں (Asset Management Companies) کے تحت ہوتا ہے، جیسے کہ Al Meezan Asset Management۔ ایک مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ ہمیں اس فنڈ پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، کیونکہ یہ دراصل پراویڈنٹ فنڈ ہی کی ایک اور شکل ہے۔ حالانکہ اس فنڈ سے ہم عام حالات میں رقم نکال نہیں سکتے، اور اگر نکالیں بھی تو ہمیں موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قرض دیا جاتا ہے جسے واپس کرنا لازم ہوتا ہے۔مفتی صاحب کا مؤقف ہے کہ چونکہ ہم اس فنڈ کو منی مارکیٹ، اسٹاک مارکیٹ یا گولڈ وغیرہ میں منتقل (switch) کر سکتے ہیں، اس لیے اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ میرا مؤقف یہ ہے کہ جب میں اس رقم کو نہ مکمل طور پر کنٹرول کر سکتا ہوں اور نہ ہی آزادانہ طور پر نکال سکتا ہوں، تو کیا ایسی صورت میں بھی ہم پر اس فنڈ کی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
واضح ہوكہ حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین اور افسران کو ریٹائرڈ ہونے یا فوت ہونے کی صورت میں جو مختلف فنڈ دیے جاتے ہیں، تو اصولی طور پر چونکہ فنڈ ملازم کے قبضے اور اختیار میں نہیں ہوتے اس لیےان تمام فنڈز کے بارے میں اصولی حکم یہ کہ جب تک یہ رقم باقاعده ملازم كے قبضہ میں نہ آجائے،اس وقت تک ان رقوم پر زکوۃ لازم نہیں اور قبضہ میں آنے کے بعد گزشتہ سالوں کی زکوۃ لازم بھی نہیں ہوتى۔
تاہم صورت مسئولہ مىں اگر سائل سمیت دیگر ملازمین نے اپنا پراویڈنٹ فنڈ (PF) اور گرىجوىٹى فنڈ (GF) اپنى رضامندى سے پنشن فنڈ مىں تبدىل كر دىا ہو اور انہیں اپنی منشاء کے مطابق اس کو منی مارکیٹ یا اسٹاک مارکیٹ میں منتقل کرنے کا اختیار بھی ہو، تو اس صورت میں کمپنی کی انتظامیہ بمنزلہ وکیل ہوگی، اور وکیل کا قبض موکل کا قبض شمار ہوتا ہے، لہٰذا اب اگر ىہ فنڈ بقدر نصاب ہو، اور قبضہ مىں آنے كے بعد اس پر سال گزرا ہو تودیگر ممبران سمیت سائل كے ذمہ اس كى زکوٰۃ كى ادائىگى لازم ہوگى۔
كما في الدر المختار: (و) عند قبض (مائتين مع حولان الحول بعده) أي بعد القبض (من) دين ضعيف وهو (بدل غير مال) كمهر ودية وبدل كتابة وخلع، إلا إذا كان عنده ما يضم إلى الدين الضعيف اهـ [كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج:2 ص306 ط: سعيد)]
وفي بدائع الصنائع: وجملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا (إلى قوله) وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض اهـ [كتاب الزكاة، فصل الشرائط التي ترجع إلى المال، ج:2 ص:10 ط: سعيد]
وفي شرح مختصر الكرخي: فصل: قال أبو الحسن: فإن وكل كل واحد منهما بالقبض وكيلا أو أحدهما، فذلك جائز؛ لأن القبض يصح فيه النيابة، فكان قبض الوكيل كقبض موكله اهـ [كتاب البيوع، باب قبض المبيع، ج:3 ص:33 ط: دار أسفار- الكويت]