السلام علیکم !آجکل زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے باون تولے چاندی کے حساب سے Rs. 503,529 ہے۔سوال یہ ہے کہ: اگر کسی کے پاس بچت تو اتنی نہیں، لیکن اس کے گھر ساڑھے چار تولے سونا پڑا ہے، تو کیا اس پر بھی زکوٰۃ فرض ہو گی؟ جبکہ اسکے علاوہ ا ور کوئی مال تجارت نہیں ہے ۔
اگر کسی شخص کی ملکیت میں فقط ساڑھے چار تولہ سونا ہو ،اس کے علاوہ چاندی، یا مال تجارت، یا روز مرہ اخراجات سے زائد کیش رقم (خواہ معمولی مقدار میں ہی کیوں نہ ہو) میں سے کچھ بھی موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں نصاب سے کم سونا ہونے کی وجہ سے اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم نہ ہوگی۔ لیکن آج کل اس قدر سونے کے مالک شخص کے پاس روزمرہ اخراجات سے زائد رقم (سو پچاس روپے) عموماً موجود ہوتی ہے، اور رقم کی موجودگی کی صورت میں وجوب زکوۃ کے لئے سونے کے بجائے ساڑھے باون تولہ چاندی کے نصاب کا اعتبار کیا جاتا ہے، اس لئے صاحب نصاب بننے کی صورت میں سونے کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس کی مجموعی مالیت پر ڈھائی فیصد کے حساب سے ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی۔
کما في الدر المختار: باب زكاة المال أل فيه للمعهود في حديث «هاتوا ربع عشر أموالكم» فإن المراد به غير السائمة لأن زكاتها غير مقدرة به(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم الخ
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه ولو كان نقصانا يسيرا يدخل بين الوزنين؛ لأنه وقع الشك في كمال النصاب فلا حكم بكماله مع الشك بحر عن البدائع اھ(کتاب الزکوۃ، باب زکاۃ المال، ج 2، ص 295، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
وفیه أیضاً: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه اھ (کتاب الزکاۃ، ج 2، ص 267، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
وفی بدائع الصنائع: أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما كتب كتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذكر فيه الفضة ليس فيها صدقة حتى تبلغ مائتي درهم فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم اھ(كتاب الزكاة، فصل الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة، ج2، ص 16، ط: شركة المطبوعات العلمية بمصر)۔