سال میں مختلف مہینوں میں جو سونا یا اشیاء جن کی زکوٰۃ بنتی ہے خریدی گئیں، اور اب رمضان آ گیا ہے اور میں زکوٰۃ دینا چاہتا ہوں تو میں کس سونے یا اشیاء کی زکوٰۃ دوں گا؟ اور اگر میں خاص وقت میں زکوٰۃ دینا چاہوں تو کیسے حساب رکھوں کہ کس مال کو ایک سال ہو گیا ہے اور بس اسی کی زکوٰۃ دینی ہے؟ اور اس طرح ہر مال کا ایک سال پورا ہونے پر زکوٰۃ دوں گا کیا؟ اور گھر میں اگر بیٹا بھی کماتا ہے اور والد بھی تو زکوٰۃ کون دے گا؟ اور اگر بیٹا شادی شدہ ہے اور اب اس کا اور اس کی زوجہ کا ذاتی سونا اور مال بھی ہے تو وہ اس کی زکوٰۃ دے گا یا گھر کے سونے یا مالیت کی؟
واضح ہو کہ صاحب نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مال کے مالک) بننے کے بعدہر مال پر الگ الگ سال گزرناشرط نہیں بلکہ نصاب کے مجموعی مالیت پر ہجری سال گزرنے کی صورت میں ان تمام أموال پر زکوۃ واجب ہوگی،لہذا سائل اگر پہلے سے صاحب نصاب ہو اور اس کی ادائیگی زکوۃ کی تاریخ متعین ہو تو ادائیگی زکوۃ سے قبل سونا ،چاندی یا دیگر أموال زکوۃ میں سے جو بھی چیزیں اس کی ملکیت میں آجاتی ہیں تو مقررہ تاریخ کو اس مجموعی مالیت پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ لازم ہوگی ،جبکہ والد اور بیٹے کی ملکیت چونکہ الگ الگ ہے اس لئے بیٹے کے صاحب نصاب ہونے کی صورت میں اس کی زکوۃ کی ادائیگی خود اس کے ذمہ اور اس کی بیوی کے پاس بقدر نصاب سونے کی موجودگی کی صورت میں اس کی زکوۃ اس کی بیوی کے ذمہ لازم ہوگی۔
کما فی الھندیه: ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة. فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق هكذا في شرح الطحاوي،ثم إنما يضم المستفاد عندنا إلى أصل المال إذا كان الأصل نصابا فأما إذا كان أقل فإنه لا يضم إليه، وإن كان يتكامل به النصاب وينعقد الحول عليهما حال وجود النصاب كذا في البدائع. اھ(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج: 1،ص: 175،مط: دار الفکر بیروت۔)
و فی الھدایه: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول" أما الوجوب فلقوله تعالى: {وَآتُوا الزَّكَاةَ} [البقرة: 43] ولقوله صلى الله عليه وسلم "أدوا زكاة أموالكم" وعليه إجماع الأمة.اھ(كتاب الزكاة،ج: 1،ص: 95،مط: دار احیاء التراث۔)
و فی مختصر القدوری: الزكاة: واجبة على الحر المسلم البالغ العاقل إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول وليس على صبي ولا مجنون و لا مكاتب زكاة ومن كان عليه دين يحيط فلا زكاة عليه اھ(كتاب الزكاة،ج: 1،ص: 51،مط: دار الکتب العلمیه)