زکوۃ و نصاب زکوۃ

بہن کو زکوۃ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
92614
| تاریخ :
2026-02-25
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بہن کو زکوۃ دینے کا حکم

میری ایک شادی شدہ بہن ہے جو میرے ساتھ رہتی ہے۔ اس کے دو بچے ہیں جن کی عمریں 10 اور 12 سال ہیں۔ گزشتہ 10 سال سے اس کا اپنے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ میں پچھلے 5 سال سےاپنی بہن اور اس کے بچوں کی تمام ضروریات کا خیال رکھ رہا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ زکوٰۃ بہن کو دی جا سکتی ہے، لیکن میری بہن پہلے ہی میرے ساتھ رہتی ہے اور میں اس کے تمام اخراجات برداشت کرتا ہوں۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں زکوٰۃ کی کچھ رقم اپنی بہن کے لیے مخصوص کر سکتا ہوں اور اس سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے اخراجات اسی رقم میں سے پورے کرے؟ کیا اس طریقے سے میری زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟ میں پوری رقم اسے دینا نہیں چاہتا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ ساری رقم ایک ہی وقت میں غیر ضروری چیزوں پر خرچ کر دے گی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگرچہ سائل کی بہن گزشتہ کئی سالوں سے اپنے شوہر سے الگ ہے اور وہ اس کے اخراجات ادا نہیں کر رہا، لیکن بچوں کے نان نفقہ اور بنیادی اخراجات اس کے والد ہی کے ذمہ ہے۔اس لئے اولاً اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا اہتمام ضروری ہے ،تاہم سائل کی بہن شرعاً مستحقِ زکوٰۃ اور غیر سید ہو تو اسے زکوٰۃ کی رقم دینا بھی شرعا جائز اور درست ہے،اور انتظامی مصلحت کے پیشِ نظر پوری رقم ایک ساتھ دینے کے بجائے تھوڑی تھوڑی رقم زکوٰۃ کی نیت سے اسے مالک بنا سکتے ہیں ،لیکن مشترکہ اخراجات میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: ھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی (کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 170، ط: ماجدیة)
وفی رد المحتار على الدر المختار: وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. وفي الظهيرية: ويبدأ في الصدقات بالأقارب، ثم الموالي ثم الجيران، ولو دفع زكاته إلى من نفقته واجبة عليه من الأقارب جاز إذا لم يحسبها من النفقة بحر وقدمناه موضحا أول الزكاة۔اھ[باب مصرف الزكاة والعشر ج:2،ص:346، مط: دار الفكر - بيروت]
وفی العناية شرح الهداية: (ولا يجوز أداء الزكاة إلا بنية مقارنة للأداء، أو مقارنة لعزل مقدار الواجب)۔۔الخ [كتاب الزكاة ج:2،ص:169، مط:دار الفكر، بيروت]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92614کی تصدیق کریں
0     53
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات