زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ یوم الوجوب کے حساب سے ادا کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
92663
| تاریخ :
2026-02-26
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ یوم الوجوب کے حساب سے ادا کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ ،
سنین ماضیہ کی زکوۃ کے بارے میں فقہاء کے اقوال دونوں طرح کے اقوال موجود ہیں کہ ادائیگی میں یوم الاداء کا اعتبار ہے یا یوم الوجوب کا، البتہ احناف کے راجح مسلک میں مفتی بہ یوم الاداء والا قول ہے،اب سوال یہ ہے کہ کسی خاتون نے اگر گزشتہ سالوں میں کسی وجہ سے زکوۃ اداء نہیں کی، اور یہ زکوۃ 1990 سے 2000 تک کی ہے ،جس وقت اور آج کی قیمتوں میں تفاوت بہت زیادہ ہے، اور وہ خاتون اب بیوہ ہیں، اور زکوۃ اداء کرنا چاہتی ہیں، لیکن اگر ادائیگی میں یوم الاداء کا اعتبار کیا جائے تو بہت زیادہ تنگی اور پریشانی لاحق ہوگی، اس لیے کیا ایسی کسی صورت میں فقہاء نے کوئی گنجائش لکھی ہے کہ جس سے زکوۃ یوم الوجوب کے اعتبار سے اداء کر دی جائے اور زکوۃ بھی اداء ہو جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عند الاحناف زکوۃ کی ادائیگی میں مفتی بہ قول کے مطابق یوم الاداء کا اعتبار ہے، البتہ اگر کسی شخص پر کئی سالوں کی زکوۃ لازم ہو، اور اسے ان سالوں کی زکوۃ دیتے وقت یومالاداء کا اعتبار کرنے میں مشقت اور حرج کا سامنا ہو، تو اسے ان سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی یوم الوجوب کے اعتبار سے کرنے کی بھی گنجائش ہے، لہذا مذکور عورت کے لیے گزرے سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کرتے وقت یوم الاداء کا اعتبار کرنا مشکل ہو، تو یوم الوجوب کا اعتبار کرتے ہوئے زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام کر لے، اور ایسا کرنے سے اس کی زکوۃ بھی درست ادا ہوگی۔ (کذا فی احسن الفتاوی :ج:4ص: 278)

مأخَذُ الفَتوی

كما في المبسوط: وإن أراد أداء الزكاة من القيمة قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى -: يؤدي خمسة دراهم معتبرا وقت الوجوب، وقال أبو يوسف: ومحمد رحمهما الله تعالى يؤدي درهمين ونصفا معتبرا وقت الأداء اهـ [كتاب الزكاة، باب عشر الأرضين، ج:3 ص:15 ط: دار المعرفة بيروت)]
وفي الجوهرة النيرة: ثم المعتبر في القيمة عند أبي حنيفة يوم الحول ولا يلتفت بعد ذلك إلى زيادة القيمة ونقصانها وعندهما ‌يوم ‌الأداء إلى الفقراء اهـ [كتاب الزكاة، باب زكاة العروض، ج:1 ص:124 ط: المطبعة الخيرية)]
وفي الدر المختار: (وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية، (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر (وترد شهادته) لأن الأمر بالصرف إلى الفقير معه قرينة الفور وهي أنه لدفع حاجته وهي معجلة، فمتى لم تجب على الفور لم يحصل المقصود من الإيجاب على وجه التمام، وتمامه في الفتح اهـ
وفی رد المحتار تحت قوله: (وافتراضها عمري) قال في البدائع وعليه عامة المشايخ، ففي أي وقت أدى يكون مؤديا للواجب، ويتعين ذلك الوقت للوجوب، وإذا لم يؤد إلى آخر عمره يتضيق عليه الوجوب، حتى لو لم يؤد حتى مات يأثم واستدل الجصاص له بمن عليه الزكاة إذا هلك نصابه بعد تمام الحول والتمكن من الأداء أنه لا يضمن، ولو كانت على الفور يضمن كمن أخر صوم شهر رمضان عن وقته فإن عليه القضاء اهـ [كتاب الزكاة، ج:2 ص:271 ط: سعيد]
وكذا في أحسن الفتاوى: (ج:4 ص:278 ط: ايچ ايم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92663کی تصدیق کریں
1     3
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات