زکوۃ و نصاب زکوۃ

سال نہ گزرے ہوئے مال پر زکوٰۃ کا اور کمپیوٹر میں قرآن پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
92676
| تاریخ :
2026-02-26
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سال نہ گزرے ہوئے مال پر زکوٰۃ کا اور کمپیوٹر میں قرآن پڑھنے کا حکم

السلام علیکم !سوال نمبر 1: میرے پاس 6 لاکھ روپے ہیں جوعمرے کی نیت سے رکھےہیں ، مگر اس پرسال نہیں ہوا ہے،چارماہ ہوئے ہیں اورکوئی سونا یا چاندی نہیں ہے ،اس پر زکاۃ ہوگی ؟
سوال نمبر2: بغیروضوکے موبائل فون یا کمپیوٹر سے قرآن پاک پڑھ سکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1) سائل اگر پہلے سے صاحب نصاب نہ ہو اور سائل کے پاس موجود چھ (6) لاکھ روپے پر ابھی قمری سال مکمل نہیں ہوا ہو، بلکہ صرف چار ماہ گزرے ہوں،تو اس رقم پر فی الحال زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔ البتہ قمری سال کے اختتام پر مذکور رقم پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ لازم ہوگی۔ (2) جی ہاں ! بغیر وضو کے بھی موبائل فون یا کمپیوٹر سے قرآن مجید پڑھ سکتے ہیں البتہ اگر قرآن مجید اسکرین پر کھلا ہو تو اگرچہ اسکو بے وضوچھونے کی بھی شرعاًگنجائش ہے، البتہ ادب کا تقاضا یہی ہے کہ بے وضواسے ہاتھ لگانے اورچھونے سے گریزکیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام)اھ(کتاب الزکاۃ، ج: 2، ص: 259، ناشر: سعید)
وفی فتح القدیر: ولا بد من الحول لأنه لا بد من مدة يتحقق فيها النماء، وقدرها الشرع بالحول لقوله عليه الصلاة والسلام «لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول (کتاب الزکاۃ ، ج:2، ص: 155، ناشر: سعید)
وفی رد المحتار: (قوله ‌ومسه) ‌أي ‌القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب، بخلاف المصحف فلا يجوز مس الجلد وموضع البياض منه الخ(باب الحیض، ج:1 ص:293، ناشر:سعید)
وفی الھندیۃ: حرمة مس المصحف لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز لا بما هو متصل به، هو الصحيح. هكذا في الهداية وعليه الفتوى. كذا في الجوهرة النيرة.(فصل فی احکام الحیض، ج: 1، ص: 38، ناشر: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رمضان عبدالعلی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92676کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات