السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اگر کسی نے اپنی بیٹی کے نام پلاٹ کیا ہو اس نیت سے کہ جب اسکی شادی کریں گے تو بیچ کر اس کے لیے کچھ خرید لیں گے تو کیا اسکی زکوۃ ہوگی؟
اگر والد نے بیٹی کے نام پلاٹ اس نیت سے خریداہو کہ اسے بیچ کر بیٹی کی شادی یا خرچ کے لیے استعمال کرےگا ، تو یہ تجارتی پلاٹ شمار ہوگا اور اس پرسالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ واجب ہوگی،ورنہ نہیں ۔
کما فی الدالمختار:(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها)لمقارنة النية لعقد التجارة اھ (کتاب الزکاۃ ، ج: 2، ص: 273، ناشر: سعید)
وفی الھندیۃ:الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهدايةاھ(کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص:179، ناشر:ماجدیہ)