زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیچنے کی نیت سے خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
92785
| تاریخ :
2026-02-28
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیچنے کی نیت سے خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اگر کسی نے اپنی بیٹی کے نام پلاٹ کیا ہو اس نیت سے کہ جب اسکی شادی کریں گے تو بیچ کر اس کے لیے کچھ خرید لیں گے تو کیا اسکی زکوۃ ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر والد نے بیٹی کے نام پلاٹ اس نیت سے خریداہو کہ اسے بیچ کر بیٹی کی شادی یا خرچ کے لیے استعمال کرےگا ، تو یہ تجارتی پلاٹ شمار ہوگا اور اس پرسالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ واجب ہوگی،ورنہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدالمختار:(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها)لمقارنة النية لعقد التجارة اھ (کتاب الزکاۃ ، ج: 2، ص: 273، ناشر: سعید)
وفی الھندیۃ:الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهدايةاھ(کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص:179، ناشر:ماجدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رمضان عبدالعلی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92785کی تصدیق کریں
0     83
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات