اگر کسی شخص نے پلاٹ کو خالصتاً اس پر گھر بنانے کے لیے خریدا ہو ، لیکن بعد میں اسے فروخت کرنے کا ارادہ کر لے۔ اس صورت حال پر زکوٰۃ کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟ مزید یہ کہ اگر زکوٰۃ کا اطلاق ہو، تو اس وقت سے ہوگا جب اس نے پلاٹ کو فروخت کرنے کے لیے اشتہار ڈیلر کو پوسٹ کرکے پیش کیا تھا یا جب اسے فروخت کرکے ادائیگی ہوئی تھی۔
واضح ہو کہ زکاۃ صرف ایسے پلاٹ کی مالیت پر ہوتی ہے جس کو خریدتے وقت آگے بیچنے کی نیت اور ارادہ ہو، چنانچہ اگر کسی شخص نے پلاٹ صرف رہائش کے لئے خرید ا اور بعد میں اسے فروخت کرنے کا ارادہ لیا ، تو ابتدائی نیت کے اعتبار سے اس پلاٹ کی قیمت پر زکاۃ واجب نہیں ہوگی، البتہ پلاٹ کو بیچنے پر جو رقم حاصل ہوگی، اس کو بقیہ اموال کے ساتھ ملاکر جس دن دیگر اموال کی زکاۃ ادا کرتا ہے تو اس رقم میں سے جو موجود اور قبضہ میں ہو، اس پر بھی زکاۃ کی ادائیگی فرض ہوگی۔
ففي الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) (الى (قوله) (نام ولو تقديرا) (2/ 259)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله نام ولو تقديرا) النماء في اللغة بالمد: الزيادة، والقصر بالهمز خطأ، يقال: نما المال ينمي نماء وينمو نموا وأنماه الله - تعالى - كذا في المغرب. وفي الشرع: هو نوعان: حقيقي وتقديري؛ فالحقيقي الزيادة بالتوالد والتناسل والتجارات، والتقديري تمكنه من الزيادة بكون المال في يده أو يد نائبه بحر اھ (2/ 263)
وفي فتح القدير للكمال ابن الهمام: (ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة) لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة (وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة) لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر اھ (2/ 168)
وفي معراج الدراية في شرح الهداية: ولا تجب في دور السكنى وعبيد الخدمة ما لم تكن معدة للتجارة بالإجماع، ومال القنية ما يدخره لنفسه لا للبيع. [(2/ 563)