السلام علیکم ! مفتی صاحب میرے پاس ڈیڑھ تولہ سونا ہے اور میرے پاس سترہ سو ڈالر تھے نقد، جبکہ میرے اوپر قرض تھا پانچ ہزار ریال، میں نے ڈالر اپنے پاس جمع رکھا اور نقد کما کر تنخوا ہ سے سارا قرض اتارا،ابھی بھی میرے پاس ڈیڑھ تولہ سونا اور سترہ سو ڈالر ہے ۔تو مہربانی فرما کر بتائیں مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنی زکوٰۃ دینی ہوگی؟ مجھے رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ!
سائل کی ملکیت میں جو ڈیڑھ تولہ سونا اور سترہ سو ڈالر موجود ہیں،سائل کے ذمہ قرضہ جات کو منہا کرنے کے بعد اگر اسکی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہو، تو ایسی صورت میں قمری سال مکمل ہونے پر سائل کے ذمہ مذکور سونے اور کرنسی پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع: لان الواجب الاصلی عندھما ھو ربع عشر العین وانما له ولایة النقل الی القیمة یوم الاداء فیعتبر قیمتھا یوم الاداء و الصحیح ان ھذا مذھب جمیع اصحابنا اھ (صفة الواجب فی اموال التجارۃ ، ج: 2 ، ص : 22 ، ط: سعید )
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: والمعتبر وزنهما أداء) أي من حيث الأداء، يعني يعتبر أن يكون المؤدى قدر الواجب وزنا عند الإمام والثاني (إلی قوله) وأجمعوا أنه لو أدى من خلاف جنسه اعتبرت القيمة، حتى لو أدى من الذهب ما تبلغ قيمته خمسة دراهم من غير الإناء لم يجز في قولهم لتقوم الجودة عند المقابلة بخلاف الجنس، فإن أدى القيمة وقعت عن القدر المستحق اھ (باب زکوٰۃ المال، ج: 2، ص: 297، ط: سعید)