السلام علیکم،
زکوٰۃ کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔میں نے ایک فلیٹ بک کروایا ہوا ہے، جو میری انویسٹمنٹ ہے، اس کو بیچ کر میرا پلان یہ ہے کہ میں ایک دوکان لے کر کاروبار کروں، یہ جہاں میں رہتا ہوں وہ گھر بیچ کر وہ پیسے ملا کر دوسری جگہ گھر لے لوں ،انویسٹمنٹ کے گھر کی مالیت چھبیس لاکھ ہے اور میں نے بائیس لاکھ جمع کر وائے ہوئے ہیں۔ برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں کے مجھ کو انویسٹمنٹ کے گھر پر زکوٰۃ دینی ہوگی۔
صورت مسئولہ میں سائل نے مذکور فلیٹ اور رہائشی مکان اگر فروخت کرنے کی نیت سے خریدے ہوں تو اس کے ذمہ اس فلیٹ اور مکان کی موجودہ مارکیٹ ویلو کے حساب سے ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی،ورنہ نہیں ۔
کما فی الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) (الى قوله) (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) (الى قوله) (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء اهـ [كتاب الزكاة، ج:2 ص:267و268 ط: سعيد)]
وفي بدائع الصنائع: وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة لما ذكرنا فيما تقدم بخلاف الذهب والفضة فإنه لا يحتاج فيهما إلى نية التجارة؛ لأنها معدة للتجارة بأصل الخلقة فلا حاجة إلى إعداد العبد ويوجد الإعداد منه دلالة على ما مر اهـ [كتاب الزكاة، فصل أموال التجارة، فصل صفة نصاب التجارة، ج:2 ص:21 ط: سعيد]