زکوۃ و نصاب زکوۃ

درمیان سال میں آئی ہوئی رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
92865
| تاریخ :
2026-03-03
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

درمیان سال میں آئی ہوئی رقم پر زکوۃ کا حکم

جناب مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ کوئی شخص صاحب نصاب ہے اور ہر سال زکاۃ ادا کرتا ہے۔ ابھی ایک ماہ قبل اُسکی ریٹائرمنٹ ہوئی ہےاور جو رقم ملی ہے کیا اُس پر بھی زکات ادا کرنی ہے جب کہ اُس پر سال مکمل نہیں ہوا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایک دفعہ صاحبِ نصاب بن جانے کے بعد درمیانِ سال اگر أموالِ زکوٰۃ میں سے مزید کچھ آجائے تو ،اس پر الگ سے سال گزرنا لازم نہیں، بلکہ سال کے اختتام پر ملکیت میں موجود ٹوٹل أموالِ زکوٰۃ پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینا لازم ہے، چنانچہ مذکور شخص اگر پہلے سے صاحبِ نصاب ہوتو سال کے اختتام پر دیگر أموالِ زکوٰۃ کا حساب لگاتے وقت درمیانِ سال میں ریٹائر منٹ کے موقع پر جتنا پیسہ حاصل ہواہو، اس کو بھی دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ شامل کر کے مجموعی مقدار پر ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

وکمافی حاشیۃ ابن العابدین : وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (‌حولان ‌الحول) ‌وهو ‌في ‌ملكه ،ألخ(ج:2 ص:267 ، کتاب الزکاۃ ،ناشرسعید)
وفی درر الحکام : ‌من ‌كان ‌له ‌نصاب فاستفاد في أثناء الحول من جنسه ضمه إليه وزكاه به فمن كان له مائتا درهم في أول الحول وقد حصل في وسطه مائة درهم يضم المائة إلى المائتين ويعطي زكاة الكل ،اھ( نصاب الخیل ، ج:1 ص : 179 ناشر: دار احیاء الکتب العربیۃ )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92865کی تصدیق کریں
0     101
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات