السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری شادی 2017 میں ہوئی ، میری والدہ نے میری شادی پر میری اہلیہ کو 4 تولا سونا دیا اور مجھے کہا کہ سونا آپکی ملکیت ہے، آپ کی اہلیہ کی نہیں، میں پرائیوٹ کمپنی پیپسی کولا میں کام کرتا ہوں، 50 ہزار تنخواہ ہے، 3 بچے ہیں، اس دور میں تنخواہ سے نظام چلتا ہے، نقدی وہی ہے جو تنخواہ سے بچتی ہے اور کبھی نہیں بھی بچتی، اگر بچتی ہے تو اگلے مہینے لگ جاتی ہے، میں ایک کمیٹی بھی بھر رہا ہوں جو 3 لاکھ روپے ہے، اور ابھی کمیٹی نکلی نہیں، 18 مہینے سے بھر رہا ہوں ، اور مجھ پر تین لاکھ کا قرض بھی ہے، کچھ دوست میرے عالم ہیں ان میں سے کچھ کہتے ہیں زکوۃ واجب ہے، کچھ کہتے ہیں زکوۃ نہیں واجب، دوست یہ کہتے ہیں تنخوہ جس سے خرچ چلتا ہے وہ جمع پونجی میں نہیں آتی، وہ کہیں نہ کہیں استعمال ہو جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ زکوۃ تو ساڑھے ساتھ تولے سونے پر ہے، اب آپ بتائیں کیا کروں، زکوٰۃ اگر واجب ہے تو میں مزید قرض میں ڈوب جاوں گا اور پھر یہ قرض ادا بھی کرنا ہے، سونے کوبیچتا ہوں امی ناراض ہوتی ہیں، اور سونا صرف شادی پر پہن کر ڈبے میں ڈال کر الماری میں رکھا ہوا ہے، کسی کاروبار میں استعمال نہیں ، اس کا میری سوچ کے مطابق پاس نقدی وہ ہو جو آپکے اخراجات سے زیادہ ہو یہاں تو تنخواہ سے پورا مہینہ گزارنا ہوتا ہے، اور میری اسکے علاوہ کوئی ذرائع آمدنی نہیں، آپکے جواب کا انتظار ہے۔
واضح ہو کہ سونا اگر چہ ساڑھے سات تولہ سے کم ہو ، لیکن اگر اس کے ساتھ دیگر اموال زکوٰۃ (چاندی، نقدی اور مال تجارت) میں سے کچھ موجود ہو، اور واجب الاداء قرضہ جات منہا کرنے کے بعد مجموعی مالیت بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر ) ہو، تو اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہے، چنانچہ صورت مسئولہ میں مذکور سونا ،کمیٹی میں اب تک کی جمع کرائی گئی رقم اور جو جمع پونجی ہو، ان کی مجموعی مالیت سے تین لاکھ قرضہ منہا کرنے کے بعد اگر بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر )مال ہو تو سائل پر سالانہ ڈھائی فیصدزکوٰۃ لازم ہے، ورنہ نہیں ، جبکہ زکوٰۃ کی رقم ایک ساتھ ادا کرنا شرعاً لازم نہیں، بلکہ تھوڑی تھوڑی کر کے بھی اگلا سال آنے سے پہلے دی جاسکتی ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: . وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما،الخ (ج 1 ص 179 الباب الثالث فی زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض ط ماجدیہ)۔
وفی الدرالمختار: (نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) الخ ( ج 2 ص 295 باب زکاۃ المال ط سعید)۔
وفی ردالحتار: (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه الخ (ج2 ص 295 باب زکاۃ المال ط سعید)۔
و فی الدرالمختار: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم الخ (2/305)۔