زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا زکوۃ دینے وقت بتانا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
92881
| تاریخ :
2026-03-03
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا زکوۃ دینے وقت بتانا ضروری ہے؟

کیا کسی رشتہ دار کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ ہے، جبکہ آپ جانتے ہوں کہ اس سے اس کی دل آزاری ہو سکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر زکوٰۃ لینے والے کے متعلق یقین یا غالب گمان کی حد تک اس کے مستحق ہونے کا علم ہو تو ایسی صورت میں اس کو زکوٰۃ دیتے وقت زکوٰۃ کے متعلق صراحت کرنا شرعاً لازم نہیں ، بلکہ اگر اس کی عزت نفس مجروح ہونے کا خطرہ ہو جیسا کہ سوال میں ہے تو پھر زکوٰۃ کا نام لینا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ ایسی صورت میں ہدیہ کے نام سے ہی زکوٰۃ دی جائے ، تاکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ مسلمان بھائی کی عزت بھی محفوظ رہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوى الهندية: ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية (1/ 171)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92881کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات