کیا اسلام 360 کو زکوٰۃ صدقات کی مد میں رقم دی جاسکتی ہے؟ اور کیا ان کی application سے قرآن اور حدیث کا مطالعہ کرنا شرعی نقطہ نگاہ سے صحیح ہے؟
واضح ہوکہ زکوٰۃ کی درست ادائیگی کے لیئےکسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو بغیر عوض زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنانالازم وضروری ہے، لہٰذا کسی ادارے (جیسے اسلام 360 وغیرہ) کی عمومی ضروریات، سرور، تنخواہوں یا ایپ کی تیاری پربرارہ راست زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں اور اس سے زکوٰۃ ادا بھی نہیں ہوگی، البتہ اگرکوئی ادارہ زکوٰۃ کی رقم مستحق افراد کو باقاعدہ تملیک کے ساتھ پہنچانے کی ذمہ داری امانت و دیانت کے ساتھ اداکررہاہو،اورزکوٰۃ اداکرنے والے کوبھی اس پرمکمل اعتمادہو،تواس صورت میں اس ادارے کوزکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔
جہاں تک مذکورہ ایپ کے ذریعے قرآنِ کریم کی تلاوت و مطالعہ کا تعلق ہے تو اس کا استعمال فی نفسہٖ جائز ہے،لیکن اس ایپ میں شائع کردہ مواد کو کسی مستند عالمِ دین کی رہنمائی کے ساتھ مطالعہ کرناچاہیے ، تاکہ کسی غیر مستند یا غلط بات سے بچا جاسکے۔
کمافی الھندیۃ: أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين الخ ( 1/170 (كتاب الزكاة) (وفيه ثمانية أبواب)۔