ہمارے پاس ایک چھوٹی سی کمیونٹی ہے جو ضرورت مند لوگوں میں ماہانہ راشن تقسیم کرتی ہے۔ میرے ایک دوست اپنی زکوٰۃ کی رقم اس کو دینا چاہتے ہیں۔ تاہم راشن ہر مہینے تقسیم کیا جاتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور کمیونٹی زکوۃ کی رقم اہتمام کے ساتھ صرف مستحقینِ زکوۃ پر خرچ کرے ،نیز راشن مستحق افراد کو اس طرح دے کہ وہ اس کے مالک بن جائیں تو ایسی صورت میں سائل کے دوست کے لئے مذکور کمیونٹی کے ذمہ داروں کو زکوۃ کی رقم دینا جائز ہوگا ورنہ نہیں۔
کما فی الدر المختار: فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة الخ
و فی رد المحتار تحت (قوله: إلا إذا دفع إليه المطعوم) لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه فيصير آكلا من ملكه، بخلاف ما إذا أطعمه معه، ولا يخفى أنه يشترط كونه فقيرا، ولا حاجة إلى اشتراط فقر أبيه أيضا لأن الكلام في اليتيم ولا أب له فافهم (کتاب الزکوٰۃ، ج:3، ص:257، ط: سعید)۔
وفی الھندیہ: اما تفسیرھا فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی، ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ للہ تعالی ھذا فی الشرع کذا فی التبین (کتاب الزکوٰۃ، الباب الاول فی تفسیرھا، ج:1، ص:170، ط: دارالفکر)۔