زکوٰۃ کے مسئلے کے بارے میں ایک سوال تھا۔ جنوری میں نصاب کے حساب سے سونا اور چاندی کی مالیت کے مطابق میرے پاس اتنی رقم موجود نہیں تھی کہ نصاب پورا ہو جاتا، لیکن فروری میں نصاب کے مطابق رقم پوری ہو گئی۔ کیا اس صورت میں زکوٰۃ اگلے سال فروری میں واجب ہوگی؟ اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔اس کے علاوہ عیدالاضحیٰ میں قربانی کے واجب ہونے کا تعلق بھی اسی نصاب سے ہے یا نہیں؟ اور قربانی واجب ہونے کے لیے شریعت کی کیا شرائط ہیں؟ نیز اس حکم میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہونے کا کوئی فرق ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ جس شخص کی ملکیت میں جس دن نصاب کے بقدر مال آ جائے، اسی دن سے وہ صاحب نصاب شمار ہو تا ہے ، چنانچہ اس کے بعد جب قمری سال مکمل ہو جا ئے تو اگرسال مکمل ہونےکے وقت وہ شخص صاحب نصاب تھا تو اس کے ذمہ زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو گی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل فروری کے مہینے میں جس دن صاحبِ نصاب بنا ہو اسی دن سے جب قمری سال مکمل ہو گا اگر سائل کی ملکیت میں نصاب کے برابر مال موجود ہو، تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا،جبکہ جس شخص کی ملکیت میں قرضہ جات وغیرہ کو منہا کر نے کے بعد قربا نی کے ایام میں سونا چاندی نقدی یا ضروریاتِ اصلیہ سے زائد کوئی چیز بقدر نصاب ہو تو اس پر قر بانی لازم ہو گی اس حکم میں شادی شدہ وغیر شادی شدہ میں کوئی فرق نہیں ۔
وفی صحیح البخاری : عن المحبق بن سليم قال: "كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفات فسمعته يقول: "أيها الناس على كل أهل بيت في كل عام أضحية" وهذا صفة الوجوب، وقال عليه السلام: "من وجد سعة ولم يضحِّ فلا يقربن مصلَّانا"، ومثل هذا الوعيد لا يلحق إلا بترك الواجب، الخ( باب بیعۃ الصغیر ،ج:14 ص: 131 ناشر : یوبی )
وفي الہندیۃ : وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة،الخ (باب فی تفسیرالاضحیۃ ورکنہا وصفتہا ،ج:5 ص: 292 ناشر: المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
وفیہ ایضاً : والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها،الخ ( باب الاول فی تفسیر الاضحیۃ ورکنہا ،ج: 5 ص : 292 ناشر؛ المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
وفی تبیین الحقائق :قال رحمه الله: (تجب على حر مسلم مقيم موسر عن نفسه لا عن طفله، شاة أو سبع بدنة يوم النحر إلى آخر أيامه)،الخ ( من تجب علیہ الأضحیۃ،ج:6،ص :2،ناشر المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
وكما فی بدائع الصنائع : ومنها كون المال فاضلا عن الحاجة الأصلية؛الخ(فصل الشرائط التی ترجع الی المال ،ج:2 ص: 11 ناشر : سعید )
وكما فی بحر الرائق: والمراد بكونه حوليا أن يتم الحول عليه، وهو في ملكه لقوله عليه الصلاة والسلام «لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول»اھ ( شروط وجوب الزکاۃ ج: 2 ص: 219 ناشر : الثانیۃ )