السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اگر ایک مسجد کی تعمیر ہو رہی ہو اور اس میں ساتھ مدرسہ بھی ہے بچے وہاں رہتے بھی ہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو ان کو زکوٰۃ کے پیسے سے سیمینٹ خرید کر دے سکتے ہیں؟ کسی نے ہم سے کہا ہے کہ آپ ایسا کریں کہ مسجد والے سیمینٹ کی دکان سے سیمینٹ ادھار پر لے لیں اور اس کے اگلے دن اگر آپ جا کر رقم ادا کر دیں زکوٰۃ کے پیسوں سے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی. کیا ایسا ہی ہے؟
واضح ہو کہ شرعاً زکوۃ درست ادا ہو نے کے لئے کسی مستحق زکوۃ شخص کو زکوۃکی رقم باقاعدہ مالک وقا بض بنا کر دینا لازم ہے،لہذا صورت مسئولہ میں زکوة کی رقم سے سیمنٹ خرید کر مسجد کی تعمیرات کے لیے دینا جائز نہیں، اور ایسا کرنے سے زکوٰة بھی ادا نہیں ہوگی، اسی طرح سوال میں درج دوسرے طریقے میں بھی تملیک نہ پائے جانے کی وجہ سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی ، البتہ اگر مسجد کی تعمیرات کے لیے درکار سیمنٹ کے لئے زکوۃ کی رقم کے علاوہ موقع پررقم کی کوئی تر تیب نہ بن رہی ہو ، تو زکوٰة کی رقم کا کسی مستحق کو غیر مشروط مالک بنا دیا جائے، پھر مالک بننے کے بعد وہ اپنے اختیار سے رقم مسجد کو عطیہ کردے ، چنانچہ اس طرح کر نے سےیہ رقم مسجد کی تعمیرات میں لگانا جائز ہوگا ۔
وفی حشیۃ ابن العابدین : ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و)،الخ ( باب مصرف الزکاۃ والعشر ، ج: 2 ص؛ 344 ناشر :سعید )
وفی تبیین الحقائق: قال رحمه الله (وبناء مسجد) أي لا يجوز أن يبنى بالزكاة المسجد لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد ،الخ (باب المصرف ، ج:1 ص: 300 ،ناشر: المطبعۃ الکبری الامیریہ)
وفي بحر الرائق : وفي الظهيرية: الأفضل لصاحب المال الظاهر أن يؤدي الزكاة إلى الفقراء بنفسه،الخ (ج:2 ،ص : 240 زکاۃ الحملان والفضلان ، ناشر: الثانیۃ)