زکوۃ و نصاب زکوۃ

واجب الاداء رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
92988
| تاریخ :
2026-03-07
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

واجب الاداء رقم پر زکوۃ کا حکم

میرے پاس آٹھ لاکھ روپے کافی سالوں سے موجود ہیں جس پہ میں زکوٰۃ بھی ادا کرتاہوں ، اب میں نےمکان خریداہے،ٹوکن ہوگیا ہے اور پیمینٹ کرنی ہے جس میں وہ آٹھ لاکھ بھی استعمال ہونگے ، میرا سوال ہے کہ اب آٹھ لاکھ پہ بھی زکوٰۃ اداکرنی ہوگی یا اس رقم پہ زکوٰۃ نہیں ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی ملکیت میں مذکورہ آٹھ لاکھ روپے کے علاوہ کوئی اور قابلِ زکوٰۃ مال(سونا،چاندی،نقدی اور مال تجارت ) بقدرنصاب نہ ہو، اور اسی رقم سے مکان کی بقایا قیمت بھی ادا کرنی ہو، توچونکہ مکان کی واجب الادا قیمت قرض کے حکم میں داخل ہے،لہٰذا اس رقم کو منہا کرنے کے بعد اگر سائل کے پاس بقدرِ نصاب مال زکوٰۃ باقی نہ بچے تو اس پر زکوٰۃ لازم نہ ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهندية:(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز اھ(الباب الأول في تفسير الزكاة و صفتها وشرائطها ج:1 ص:172ط: ماجديۃ)۔
و فيها ايضاَ:(‌ومنها ‌الفراغ ‌عن ‌الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة الخ(الباب الأول في تفسير الزكاة و صفتها و شرائطها ج:1 ص:172 ط: ماجديۃ)۔
‌و في الجوهرة النيرة: (قوله ‌و إن ‌كان ‌ماله ‌أكثر ‌من ‌الدين ‌زكى ‌الفاضل إذا بلغ نصابا) لفراغه عن الحاجة الخ(شروط وجوب الزكاةج:1 ص:115 ط: المطبعة الخيرية)۔
و فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ومنها: أن لايكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالاً كان أو مؤجلاً الخ (کتاب الزکوٰۃ ج:2 ص:6 ط: دار الکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رمضان عبدالعلی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92988کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات