السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم مفتی صاحب! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے متعلق کہ میرے پاس تقریباً پانچ تولہ سونا ہے جو مجھے حقِ مہر میں ملا تھا اور پچھلے پانچ سال سے میری ملکیت میں ہے۔ یہ زیور میرے پاس موجود ہے، لیکن گھر کے حالات ایسے ہیں کہ میرے شوہر اور سسرال والے مجھے اس زیور میں تصرف (یعنی اسے بیچنے یا استعمال کرنے) کی اجازت نہیں دیتے،اسی وجہ سے میں اس زیور کو بیچ کر یا اس سے فائدہ اٹھا کر زکوٰۃ ادا نہیں کر سکتی۔ میری ذاتی آمدن بھی ہے۔ خود نوکری کرتی ہوں ۔اور وہ تمام پیسے گھر میں ہی خرچ ہوتے ہیں اور نہ ہی گھر والے مجھے زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے اتنی رقم دیتے ہیں۔ اس سال کے حساب سے میرے زیور پر تقریباً 70 ہزار روپے کے قریب زکوٰۃ بنتی ہے،اب میرا سوال یہ ہے کہ:کیا اس صورت میں مجھ پر اس زیور کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟اگر زکوٰۃ لازم ہے تو جب میرے پاس رقم نہیں اور زیور میں تصرف کی اجازت بھی نہیں، تو میں زکوٰۃ کیسے ادا کروں؟اگر میں زکوٰۃ ادا نہ کر سکوں تو گناہ مجھ پر ہوگا یا ان لوگوں پر جو مجھے زکوٰۃ ادا کرنے یا زیور میں تصرف کرنے نہیں دیتے؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً۔
صورت مسؤلہ میں مذکور سونا جب سائلہ کو مہر میں ملا ہے اور پچھلے پانچ سال سے وہ سائلہ کی ملکیت میں ہے ،تو یہ سائلہ کی ملکیت شمار ہوگی اور شرعاً اس کی زکوٰۃ سائلہ کے ذمہ ہی واجب ہے ،لہذا سائلہ کو چاہیے کہ وہ اولاً اپنی آمدن میں سے ہر ماہ کچھ رقم اس غرض سے علیحدہ کردیا کرے ،اور جمع کردہ رقم سے زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرے،اور ساتھ شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اس زکوۃ کی ادائیگی میں بیوی سے تعاون کرے،یہ اس کی جانب سے تبرع واحسان ہوگا،اور آئندہ ان کی زندگی میں اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے،ورنہ زکوۃ نہ دینے کی صورت میں اس کی جوابدہی سائلہ کے ذمہ ہی لازم ہوگی،اس لئے ان کو اپنے ذمہ فارغ کرنے کیلئے کوئی بھی مناسب تدبیر اختیار کرنے کا اہتمام ضروری ہے ۔
کما فی الدرالمختار: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم،(كتاب الزكاة،باب زكاة المال،ج: 3،ص: 305،مط: دارالفکر)
و فی ردالمحتار: (قوله: عند قبض أربعين درهماً) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لاتجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج، فكذلك لايجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين،اهـ(كتاب الزكاة،باب زكاة المال،ج: 2،ص: 305،مط: دارالفکر)