زکوۃ و نصاب زکوۃ

سسرال والے سونا نہ دے رہے ہوں تو بہو پر زکوۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
93329
| تاریخ :
2026-03-17
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سسرال والے سونا نہ دے رہے ہوں تو بہو پر زکوۃ لازم ہوگی؟

میری شادی اکتوبر 2014 میں ہوئی تھی۔ شادی کے وقت مجھے اپنے سسرال والوں کی طرف سے کچھ سونا ملا تھا، جبکہ میرے اپنے گھر والوں کی طرف سے بہت تھوڑا سونا ملا تھا۔ میں نے وہ تمام سونا اپنے شوہر اور اُن کی والدہ کے پاس امانت کے طور پر رکھوا دیا۔ اُس وقت سے آج تک میں اُسے استعمال نہیں کر سکی۔ایک مرتبہ میرے شوہر نے مجھے بتایا تھا کہ وہ میری "امانت" ہے اور میں مستقبل میں جب چاہوں اُسے لے سکتی ہوں۔ چنانچہ میں اُس سونے کی زکوٰۃ ادا کرتی رہی (اگرچہ سونا ساڑھے سات تولہ سے کم تھا، لیکن میرے پاس ایک پلاٹ اور کچھ بچت بھی تھی)۔تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کی بچت بھی میں نے اپنے شوہر کو گاڑی خریدنے کے لیے دی تھی، لیکن کوئی گاڑی نہیں خریدی گئی۔ وہ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ بچت اور سونا میرے ہی ہیں، اسی لیے میں ہر سال اُن کی زکوٰۃ ادا کرتی رہی۔اس سال میں نے اُن سے کہا کہ وہ مجھے میرا سونا اور بچت واپس دے دیں تاکہ میں خود زکوٰۃ کا حساب کر سکوں۔اس پر اُنہوں نے جواب دیا: "کون سا سونا؟ کون سے پیسے؟"اب اُس سونے اور اُس رقم کو نکال کر دیکھا جائے تو میں زکوٰۃ کے نصاب کی مالک نہیں رہتی (میرے پاس صرف ایک پلاٹ اور ایک تولہ سونا ہے، جن کی مجموعی مالیت ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت سے کم ہے)۔میرے شوہر کے پاس ایک گھر، کچھ بچت اور وہ سونا بھی موجود ہے۔ میری معلومات کے مطابق اُن کے پاس موجود کل مالیت نصابِ زکوٰۃ سے زیادہ ہے۔تاہم اُنہوں نے خود کبھی زکوٰۃ ادا نہیں کی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور سونا اور رقم سائلہ کی ملکیت ہو، مگر شوہر کے انکار کی وجہ سے فی الحال قابلِ وصول نہ ہو، تو فی الحال سائلہ پراس سونے اوررقم کی زکوٰۃ لازم نہیں۔تاہم اگر کبھی سائلہ کومذکور سونااوررقم واپس حاصل ہوگئی تو اس پرگزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ اداکرنالازم ہوگا۔ لہذااگر سائلہ کوسونا اور رقم وصول ہونے کی امیدہوتوبہتریہی ہے کہ سائلہ ہرسال حساب کرکے اس سونے اوررقم کی زکوٰۃ اداکرتی رہے، تاکہ وصولی کے بعدگزشتہ سالوں کی یکمشت ادائیگی کے بوجھ کی وجہ سے دشواری کاسامنانہ کرناپڑے ۔
البتہ سائلہ کے پاس موجود پلاٹ کے بارے میں سوال میں وضاحت نہیں کہ اس کی خریداری کامقصداس میں رہائش اختیارکرناہے یابیچ کرنفع کماناہے، تاکہ اس کے مطابق حتمی جواب دیاجاسکتا، تاہم اگرمذکورپلاٹ ذاتی رہائش یاضرورت کے لیے خریداگیاہوتوچونکہ ایساپلاٹ اموال زکوٰۃ میں شمارنہیں ہوتا، لہذا اس کوزکوٰۃ کے نصاب میں شامل نہیں کیاجائے گا،اس صورت میں اگرسائلہ کے پاس صرف ایک تولہ سوناہی ہو،کسی قسم کی نقدی وغیرہ نہ ہوتواس پرزکوٰۃ لازم نہ ہوگی ،لیکن اگرمذکور پلاٹ تجارت کے لیے خریدا گیا ہو تو اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو، ایک تولہ سونا ، نقدی (اگرموجودہو)وغیرہ سب ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے نصاب کے برابر یا زائد ہونے کی صورت میں سائلہ پر زکوٰۃ لازم ہوگی ۔
جبکہ شوہر اپنے پاس موجود مال کی زکوٰۃ کاخودذمہ دارہے ،بیوی ذمہ دارنہیں ،چنانچہ اگروہ صاحب نصاب ہونے کے باوجودزکوٰۃ اداکرنے میں کوتاہی کامرتکب ہورہاہوتواس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گارہورہاہے ،اس پرلازم ہے کہ وہ اپنی اس غفلت پربصدق توبہ واستغفاراورسابقہ وموجودہ زکوٰۃ کی ادائیگی اہتمام کرے ،تاکہ وہ دنیاوی واخروی مؤاخذہ سے سبکدوش ہوسکے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم (و) عند قبض (مائتين منه لغيرها) أي من بدل مال لغير تجارة وهو المتوسط كثمن سائمة وعبيد خدمة ونحوهما مما هو مشغول بحوائجه الأصلية كطعام وشراب وأملاك.ويعتبر ما مضى من الحول قبل القبض في الأصح، ومثله ما لو ورث دينا على رجل (و) عند قبض (مائتين مع حولان الحول بعده) أي بعد القبض (من) دين ضعيف. إلخ (ج: 2، ص: 305-306)
وفي رد المحتار: (قوله: إذا تم نصابا) والمراد إذا بلغ نصابا بنفسه أو بما عنده مما يتم به النصاب (قوله: وحال الحول) أي ولو قبل قبضه في القوي والمتوسط وبعده الضعيف. (إلى قوله) (قوله: كقرض) قلت: الظاهر أن منه مال المرصد المشهور في ديارنا؛ لأنه إذا أنفق المستأجر لدار الوقف على عمارتها الضرورية بأمر القاضي للضرورة الداعية إليه يكون بمنزلة استقراض المتولي من المستأجر، فإذا قبض ذلك كله أو أربعين درهما منه ولو باقتطاع ذلك من أجرة الدار تجب زكاته لما مضى من السنين (2) والناس عنه غافلون.اهـ (باب أموال الزكاة، ج: 2، ص: 305، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهداية: (ومن له على آخر دين فجحده سنين ثم قامت له بينة لم يزكه لما مضى) معناه: صارت له بينة بأن أقر عند الناس وهي مسألة مال الضمار.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 1، ص: 96، ط: دار احياء التراث العربي، بيروت - لبنان)
وفي البناية: م: (ومن له على آخر دين فجحده سنين ثم قامت له بينة لم يزكه لما مضى) ش: أي لما مضى له السنين ومعنى قوله: -ثم قامت به بينة- أي بالدين بينة ما كانت له بينة أولا، ثم صارت م: (بأن أقر) ش: المديون م: (عند الناس) ش: أو كان شهوده غائبين فحضروا بعد سنين، أو تذكروا بعد ما نسوا وإنما قيد بقوله: -ثم قامت به بينة- لأنه إذا كانت له بينة تجب عليه الزكاة.اهـ (كتاب الزكاة، زكاة المال المضمار والمفقود والمغصوب، ج: 3، ص: 304، ط: دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)
وفي المبسوط: وجه قولنا حديث علي رضي الله عنه موقوفا عليه ومرفوعا إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا زكاة في مال الضمار» ومعناه مال يتعذر الوصول إليه مع قيام الملك
(إلى قوله) وأن عمر بن عبد العزيز في خلافته لما أمر برد أموال بيت المال على أصحابها قيل أفلا نأخذ منهم زكاتها لما مضى قال: لا، فإنها كانت ضمارا (إلى قوله) وكذلك الدين المجحود وأطلق الجواب فيه في الكتاب (إلى قوله) وجه رواية الكتاب أنه لا زكاة عليه سواء كانت له بينة أو لم تكن له بينة إذ ليس كل شاهد يعدل ولا كل قاض يعدل، وفي المحاباة بين يديه في الخصومة ذل فكان له أن لا يذل نفسه وكثير من أصحابنا - رحمهم الله تعالى - قالوا: إذا كانت له عليه بينة تلزمه الزكاة لما مضى؛ لأن التقصير جاء منه.اهـ (كتاب الزكاة، ج: زكاة الإبل، ج: 2، ص: 171، ط: مطبعة السعادة - مصر)
وفي الدر المختار أيضا: (فلا زكاة (إلى قوله) (ودين) كان (جحده المديون سنين) ولا بينة له عليه (ثم) صارت له بأن (أقر بعدها عند قوم) وقيده في مصرف الخانية بما إذا حلف عليه عند القاضي، أما قبله فتجب لما مضى (مصادرة) أي ظلما (ثم وصل إليه بعد سنين) لعدم النمو. والأصل فيه حديث علي «لا زكاة في مال الضمار» وهو ما لا يمكن الانتفاع به مع بقاء الملك.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 263-266، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: ويشترط أن يتمكن من الاستنماء بكون المال في يده أو يد نائبه فإن لم يتمكن من الاستنماء فلا زكاة عليه وذلك مثل مال الضمار (إلى قوله) ومن مال الضمار الدين المجحود.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 1، ص: 174، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار: (نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) (إلى قوله) (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا (أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب) الجملة صفة عرض وهو هنا ما ليس بنقد. (إلى قوله) (من ذهب أو ورق) أي فضة مضروبة (إلى قوله) (مقوما بأحدهما) (إلى قوله) (ربع عشر) خبر قوله اللازم..اهـ (باب زكاة المال، ج: 2، ص: 295-298، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) إلخ
وفي رد المحتار: (قوله: وقيمة العرض إلخ) تقدم قريبا تقويم العرض إذا بلغ نصابا، وما هنا في بيان ما إذا لم يبلغ. وعنده من الثمنين ما يتم به النصاب.(إلى قوله) (قوله ويضم إلخ) أي عند الاجتماع. أما عند انفراد أحدهما فلا تعتبر القيمة إجماعا بدائع؛ لأن المعتبر وزنه أداء ووجوبا كما مر. وفي البدائع أيضا أن ما ذكر من وجوب الضم إذا لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان أقل، فلو كان كل منها نصابا تاما بدون زيادة لا يجب الضم بل ينبغي أن يؤدي من كل واحد زكاته، فلو ضم حتى يؤدي كله من الذهب أو الفضة فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا وإلا يؤد من كل منهما ربع عشره اهـ (كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 303، ط: إيج إيم سعيد)
وفي بدائع الصنائع: وقوله {والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله} [التوبة: 34] الآية فكل مال لم تؤد زكاته فهو كنز لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «كل مال أديت الزكاة عنه فليس بكنز وإن كان تحت سبع أرضين وكل مال لم تؤد الزكاة عنه فهو كنز وإن كان على وجه الأرض» فقد ألحق الوعيد الشديد بمن كنز الذهب والفضة ولم ينفقها في سبيل الله ولا يكون ذلك إلا بترك الفرض.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 2، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93329کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات