السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ
حضراتِ مفتیانِ کرام!
ایک اہم مسئلہ دریافت کرنا ہے، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
میں نے اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے ہر سال ایک تاریخ مقرر کی ہوئی ہے (عربی مہینے کے اعتبار سے)۔ اس مقررہ تاریخ پر میں اپنے مالِ تجارت (نمک) کی زکوٰۃ ادا کرتا ہوں۔
ہم نے فقہ کی کتابوں میں یہ پڑھا ہے کہ مالِ تجارت کی زکوٰۃ میں قیمت لگاتے وقت “مارکیٹ ویلیو” اور “قیمتِ فروخت” کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ:
جب زکوٰۃ کی مقررہ تاریخ آتی ہے، تو اس دن میرے پاس جو مال موجود ہوتا ہے، اس کی قیمت لگانے میں کون سا طریقہ درست ہوگا؟
1) کیا ان لوگوں کی قیمت (ریٹ) کا اعتبار کیا جائے گا جن سے ہم یہ مال خریدتے ہیں، یعنی آج کے دن اگر ہم یہی مال خریدیں تو ہمیں جس ریٹ پر ملے گا اسی کے مطابق حساب لگایا جائے؟
یا
2) اس قیمت کا اعتبار کیا جائے گا جس پر ہم آج کے دن اپنے اس مال کو مارکیٹ میں فروخت کر سکتے ہیں؟
براہِ کرم اس اشکال کی وضاحت فرما دیں کہ “مارکیٹ ویلیو” سے مراد خریداری ریٹ ہے یا فروخت کا ریٹ؟
جزاکم اللہ خیراً
صورت مسئولہ میں مار کیٹ ویلیو سے مراد وہ قیمت ہے جس پر سائل اپنا مال اس وقت مارکیٹ میں فروخت کرسکتا ہو، لہٰذا مال تجارت کی زکوٰۃ میں قیمتِ خرید کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ زکوٰۃ کی تاریخ میں رائج قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا اور اسی حساب سے سائل پر زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی ۔ نیز قیمت لگاتے وقت تاجر کے کاروبار کی نوعیت اور حیثیت کے مطابق قیمت فروخت معتبر ہوگی۔
کما فی الدر المختار : وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح (ج2 ص:286 باب زكاة الغنم ط:ایچ ایم سعید)
وفی اللباب في شرح الكتاب:(ويجوز دفع القيمة في الزكاة) وكذا في العشر والخراج والفطرة والنذر والكفارة غير الإعتاق، وتعتبر القيمة يوم الوجوب عند الإمام، وقالا: يوم الأداء، وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، ويقوم في البلد الذي المال فيه، ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه (ج1 ص:72 باب زکاۃ الخیل ط:دار الكتاب العربي)