میرے والد نے دو شادیاں کی ہیں۔ دوسری شادی کو تقریباً 22 سال ہو چکے ہیں اور وہ زیادہ تر اسی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے نام پر تقریباً 140 ایکڑ زرعی زمین ہے جس کی آمدنی وہ مکمل طور پر دوسری بیوی اور اس کے گھر پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ پہلی بیوی اور چار بچوں کو اس میں سے کچھ نہیں دیا جاتا۔اب والد صاحب اس پوری زمین کو دوسری بیوی کے نام منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارے کچھ مقامی علماء یہ رائے دیتے ہیں کہ چونکہ جائیداد والد کے نام ہے، اس لیے وہ اسے جس کے نام چاہیں کر سکتے ہیں اور اولاد کا کوئی حق نہیں۔براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:کیا شرعاً والد کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ساری جائیداد ایک بیوی کے نام کر دیں اور دوسری بیوی و اولاد کو محروم رکھیں؟کیا زندگی میں اولاد کے درمیان برابری ضروری ہے؟اگر کسی کو اس کے جائز حق سے روکا جا رہا ہو تو شریعت کی رو سے اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟کیا علماء کے لیے کسی فریق کی بلا تحقیق ایسی تائید کرنا درست ہے جس سے دوسرے کے حقوق متاثر ہوں؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم اپنے جائز حقوق کے بارے میں درست مؤقف اختیار کر سکیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں، مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل، اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے؛ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے۔ اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہےکہ انہیں تقسیم کرنے پر مجبور کرے، تاہم شریعتِ مطہرہ نے اولاد کے درمیان ہبہ اور عطاء میں عدل کا حکم بھی دیا ہے، اس لئے اگر سائل کا والد ساری جائیداد دوسری بیوی سے ہونے والی اولاد کو دیے گا اور پہلی بیوی کی اولاد کو بغیر کسی شرعی عذر کے محروم کرے گا، تو اس سے وہ عند اللہ سخت گنہگار ہو گا اور قیامت کے دن اس کا مواخذہ ہو گا۔ اس لئے اس پر لازم ہے کہ وہ مواخذۂ اخروی سے بچنے کے لیے عدل سے کام لے کر تمام اولاد میں جائیداد تقسیم کرے، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی اور بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر، بقیہ رقم اولاد کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، زبانی کلامی بول دینا کافی نہیں۔ پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں بیٹے اور بیٹی کو برابر اور یکساں رکھے، کسی کو کم، کسی کو زیادہ نہ دے کہ دونوں ہی اس کی اولاد ہیں۔تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔
کما فی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا۔ الخ(کتاب الھبۃ ،ج:6،ص:691-690،ط: سعید)
وفی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.اھ(الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ج:4،ص:378،ط: ماجدیۃ)
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قالہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع، ج:6، ص:127،ط:سعید)۔
و في المصنف لابن أبي شيبة : عن النعمان بن بشير قال : أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة : لا أرضى حتى تشهد النبي صلى الله عليه و سلم قال فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني أعطيت ابني من عمرة عطية فأمرتني أن أشهدك. قال أعطيت كل ولدك مثل هذا ؟ قال : لا ، قال فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم (وفي رواية أخرى قال فاردده) (مسألة العدل بين الأولاد ، ج:٧، ص: 278، ط: دار التاج لبانن)
و في الدر المختار: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى و لو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم۔اھ (كتاب الهبة ، ج: ۵، ص: 696، ط : سعيد)-
و في البحر الرائق : يكره تفضيل بعض الأولاد علی البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم ( إلى قوله) وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبةاھ( كتاب الهبة ، ج: 7 ، ص: 288، ط : ماجدية)
و في الهنديه : رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان. وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية، كذا في خزانة المفتين.ولو كان ولده فاسقا وأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه، كذا في الخلاصة.ولو كان الولد مشتغلا بالعلم لا بالكسب فلا بأس بأن يفضله على غيره، كذا في الملتقط.اھ(الباب السادس في الهبة للصغير ،ج:4،ص:391،ط:ماجدیۃ)