اولاد کے حقوق

والد کا تمام جائیداد بیوی کے نام کرکے بچوں کو محروم کرنا

فتوی نمبر :
94401
| تاریخ :
2026-04-20
معاشرت زندگی / حقوق و فرائض / اولاد کے حقوق

والد کا تمام جائیداد بیوی کے نام کرکے بچوں کو محروم کرنا

میرے والد نے دو شادیاں کی ہیں۔ دوسری شادی کو تقریباً 22 سال ہو چکے ہیں اور وہ زیادہ تر اسی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے نام پر تقریباً 140 ایکڑ زرعی زمین ہے جس کی آمدنی وہ مکمل طور پر دوسری بیوی اور اس کے گھر پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ پہلی بیوی اور چار بچوں کو اس میں سے کچھ نہیں دیا جاتا۔اب والد صاحب اس پوری زمین کو دوسری بیوی کے نام منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارے کچھ مقامی علماء یہ رائے دیتے ہیں کہ چونکہ جائیداد والد کے نام ہے، اس لیے وہ اسے جس کے نام چاہیں کر سکتے ہیں اور اولاد کا کوئی حق نہیں۔براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:کیا شرعاً والد کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ساری جائیداد ایک بیوی کے نام کر دیں اور دوسری بیوی و اولاد کو محروم رکھیں؟کیا زندگی میں اولاد کے درمیان برابری ضروری ہے؟اگر کسی کو اس کے جائز حق سے روکا جا رہا ہو تو شریعت کی رو سے اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟کیا علماء کے لیے کسی فریق کی بلا تحقیق ایسی تائید کرنا درست ہے جس سے دوسرے کے حقوق متاثر ہوں؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم اپنے جائز حقوق کے بارے میں درست مؤقف اختیار کر سکیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں، مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل، اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے؛ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے۔ اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہےکہ انہیں تقسیم کرنے پر مجبور کرے، تاہم شریعتِ مطہرہ نے اولاد کے درمیان ہبہ اور عطاء میں عدل کا حکم بھی دیا ہے، اس لئے اگر سائل کا والد ساری جائیداد دوسری بیوی سے ہونے والی اولاد کو دیے گا اور پہلی بیوی کی اولاد کو بغیر کسی شرعی عذر کے محروم کرے گا، تو اس سے وہ عند اللہ سخت گنہگار ہو گا اور قیامت کے دن اس کا مواخذہ ہو گا۔ اس لئے اس پر لازم ہے کہ وہ مواخذۂ اخروی سے بچنے کے لیے عدل سے کام لے کر تمام اولاد میں جائیداد تقسیم کرے، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی اور بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر، بقیہ رقم اولاد کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، زبانی کلامی بول دینا کافی نہیں۔ پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں بیٹے اور بیٹی کو برابر اور یکساں رکھے، کسی کو کم، کسی کو زیادہ نہ دے کہ دونوں ہی اس کی اولاد ہیں۔تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا۔ الخ(کتاب الھبۃ ،ج:6،ص:691-690،ط: سعید)
وفی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.اھ(الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ج:4،ص:378،ط: ماجدیۃ)
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قالہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع، ج:6، ص:127،ط:سعید)۔
و في المصنف لابن أبي شيبة : عن النعمان بن بشير قال : أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة : لا أرضى حتى تشهد النبي صلى الله عليه و سلم قال فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني أعطيت ابني من عمرة عطية فأمرتني أن أشهدك. قال أعطيت كل ولدك مثل هذا ؟ قال : لا ، قال فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم (وفي رواية أخرى قال فاردده) (مسألة العدل بين الأولاد ، ج:٧، ص: 278، ط: دار التاج لبانن)
و في الدر المختار: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى و لو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم۔اھ (كتاب الهبة ، ج: ۵، ص: 696، ط : سعيد)-
و في البحر الرائق : يكره تفضيل بعض الأولاد علی البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم ( إلى قوله) وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبةاھ( كتاب الهبة ، ج: 7 ، ص: 288، ط : ماجدية)
و في الهنديه : رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان. وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية، كذا في خزانة المفتين.ولو كان ولده فاسقا وأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه، كذا في الخلاصة.ولو كان الولد مشتغلا بالعلم لا بالكسب فلا بأس بأن يفضله على غيره، كذا في الملتقط.اھ(الباب السادس في الهبة للصغير ،ج:4،ص:391،ط:ماجدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94401کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • والد کااپنی اولادکے مال میں تصرف کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بیوی بچوں پر خرچ کرنےکا ثواب اور فضیلت

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والدین سے ان کی زندگی میں جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • تین طلاقوں کے بعد ببچے کے حقِ پرورش کی تفصیلات

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • دین پر عمل کرنے والے کے لئےگھر والوں کا نامناسب رویہ اپنانا اور ناراض ہونا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بالغ بیٹی کا خرچہ کس کے ذمہ لازم ہے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • عبادت گزار ہونے کے ساتھ گھر والوں کو اذیت دینے والی ساس کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اپنے بیٹے کو حرامی کہنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اولاد سے سخت رویہ رکھنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • کیاوالد کا اپنے لین دین کے متعلق اولاد کو بتانا ضروری ہے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بچہ کا خرچہ نہ دینے کے بعد بچہ کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا زمین بیٹوں کو ہدیہ کرکے بیٹیوں کو محروم کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • سوتیلے بیٹوں کو جائیداد دینے پر والد مرحوم کی جا ئیداد میں حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • باپ کا بیٹے کی زمین فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • اولاد کی تربیت کے خاطر مدرسہ بند کر دینا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد اور بھائیوں کا رویہ اور عزت نفس کا خیال نہیں رکھنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والدین اور بچوں کی بیماری کی دیکھ بھال نہ کرنااور تبلیغ پر بیرون ملک جانا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والدین کے برے رویہ پر اولاد کیا کرے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • اولاد کے درمیان, ہبہ و عطایا میں برابری و عدل کا حکم

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بیوی کا سوتیلی بیٹی کی پرورش نہ کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • والد کا اپنی انا کی وجہ سے بیٹی کا گھر خراب کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • اسلام سے متنفر بیٹے سے کیسا رویہ رکھا جائے؟

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بالغ ہونے کے بعد لڑکی کو والدین میں سے کسی کے پاس رہنے کا اختیار دینا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • سوتیلے بہن بھائیوں کا خرچہ اٹھانے کا حکم

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
  • بیٹے کے مطالبہ کے باجود والدین کا نکاح میں تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   اولاد کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات