جناب مفتی صاحب !السلام علیکم!معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے پاس بیٹی کا زیو ر رکھا ہواہے،ہماری بیٹی U Kمیں ہے،اور زیور بھی بارہ سے پندرہ سال پہلے کا خریدا ہوا ہے،کیونکہ اس کی زکوٰۃ ہمیں دینی ہوتی ہے،اور زیورات کی تمام رسیدیں بھی ہمارے پاس موجود ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا جس ریٹ سے زیور خریدا گیا تھا ، اس کے حساب سے زکوٰۃ دینی پڑتی ہے،یا آج کی حساب سے؟مہربانی فرماکر قرآن اور حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں!
صورت مسئولہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی موجودہ مارکیٹ ویلیو کی حساب سے شرعاً لازم ہوگی، جبکہ اس کی ادائیگی بھی بیٹی کے ذمہ لازم ہے، والدین کے ذمہ نہیں، تاہم والدین اگر بیٹی کی اجازت سے از خود ادائیگی کردیں تو ایسا کرنا بھی شرعاً درست ہے۔
کما فی الدر: (وجاز دفع القيمةفي زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء.الخ(کتاب الزکوٰۃ،باب زکوٰۃ الغنم،ج:2،ص:286،ط:سعید)
و فی البدائع: لو تصدق عن غيره بغير أمره فإن تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه و لاتجوز عن غيره و إن أجازه و رضي به، أما عدم الجواز عن غيره فلعدم التمليك منه إذ لا ملك له في المؤدى و لايملكه بالإجازة فلاتقع الصدقة عنه و تقع عن المتصدق؛ لأن التصدق وجد نفاذًا عليه، و إن تصدق بمال المتصدق عنه وقف على إجازته فإن أجاز و المال قائم جاز عن الزكاة و إن كان المال هالكًا جاز عن التطوع ولم يجز عن الزكاة؛ لأنه لما تصدق عنه بغير أمره وهلك المال صار بدله دينًا في ذمته فلو جاز ذلك عن الزكاة كان أداء الدين عن الغير و أنه لايجوز، والله أعلم."(کتاب الزکوٰۃ، فصل شرائط رکن الزکوٰۃ،ج:2،ص:45،ط:دارالکتب العلمیہ)