میں" ۔۔۔۔" (چیئرمین ۔۔۔ فاؤنڈیشن)عرض رہنمائی طلب ہوں کہ "۔۔۔ فاؤنڈیشن"زکوٰۃ کی رقم کو کس طرح کے مستحق لوگوں میں تقسیم کرسکتا ہے؟اور کن کن فلاحی کاموں میں تقسیم کرسکتا ہے؟
نوٹ: فی الحال فاؤنڈیشن کے جو سات ممبرز ہیں ،ہم ان کی زکوٰۃ کی بات کرتے ہیں،کہ ہم اپنی زکوٰۃ کن مدات میں استعمال کرسکتے ہیں ،اور اگر آئندہ ہمارے علاؤہ کوئی اور لوگ ہمیں چندہ دیتے ہے تو اسکے مصارف کیا ہونگے ؟رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ (خواہ ذاتی ہو یا کسی سے توکیلاً وصول کر لی جائے)کی ادائیگی کیلئے چونکہ تملیک (یعنی کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو مالک بنانا)شرط ہے ،کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو مالک بنائے بغیر زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقم خرچ کرنے کی صورت میں اس کی ادائیگی درست نہ ہوگی ،اس لئے فلاحی کاموں میں براہ راست زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقم خرچ کرنا تو جائز نہیں ،البتہ فقراء ومساکین ،مسافر اور مقروض افراد اگر صاحب نصاب (یعنی ان کی ملکیت میں ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر سونا ،چاندی،رقم اور ضرورت سے زائد دیگر ساز وسامان موجود )نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو انہیں مالکانہ قبضہ کے ساتھ زکوٰۃ کی رقم دینے سے زکوٰۃ درست ادا ہوجائیگی ،تاہم مصارف زکوٰۃ کے تعیین اور مستحق افراد کو ادائیگی زکوٰۃ کیلئے درست طریقہ کار اختیار کرنے کیلئے حسب موقع اس کی نگرانی کرنا ضروری ہے اس لیے اگر سوال میں مذکور فاؤندیشن والے اس سلسلہ میں کسی مستند اور ماہر اہل علم کی خدمات لیتے رہیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔
كما قال اللہ تعالیٰ: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (التوبة: 60)
و فی تبیین الحقائق: قال رحمه الله: (هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى) هذا في الشرع، وقوله هي تمليك المال أي الزكاة تمليك المال،اھ(كتاب الزكاة،ج: 1،ص: 251،مط: دار الکتاب الاسلامی )
و فی الھندیة: لايجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار، والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين،اھ(كتاب الزكاة،الباب السابع في المصارف،ج: 1،ص: 188،مط: دار الفکر )
و فیھا ایضاً: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي ،اھ(كتاب الزكاة،الباب السابع في المصارف،ج: 1،ص: 189،مط: دار الفکر )
و فی الدرالمختار: (وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال،اھ(كتاب الزكاة،باب صدقة الفطر،ج: 2،ص: 368،مط: دار الفکر)
و فی رد المحتار: (تحت قوله في المصارف) أي المذكورة في آية الصدقات إلا العامل الغني فيما يظهر ولا تصح إلى من بينهما أولاد أو زوجية ولا إلى غني أو هاشمي ونحوهم ممن مر في باب المصرف،اھ(كتاب الزكاة،باب صدقة الفطر،ج: 2،ص: 369،مط: دار الفکر)