مفتی صاحب! میری بیوی کے پاس 6 تولہ سونا ہے، وہ سرکاری ملازمت بھی کرتی ہے، ہم کرائے کے گھر میں رہتے ہیں اور اس کی تنخواہ گھر کے اخراجات میں خرچ ہو جاتی ہے۔ اس کے پاس نہ کوئی بچت ہے، نہ سرمایہ کاری اور نہ ہی کوئی دوسری رقم، کیا ان 6 تولہ سونے پر زکوٰۃ فرض ہے؟ ہمارے حالات بھی بہت خراب ہیں، کیونکہ پیسے بچ نہیں پاتے، بس گزارا ہو رہا ہے۔
سائل کی بیوی کی ملکیت میں اگر چھ تولہ سونے کے علاوہ دیگر اموال زکوٰۃ (چاندی، نقدی اور مال تجارت) میں سے کچھ بھی موجود ہو، خواہ وہ تھوڑی مقدار میں ہی کیوں نہ ہو تو مجموعی مالیت چونکہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے بنتی ہے، اس لیے وہ صاحب نصاب شمار ہوگی اور اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔
ففی الفتاوى الهندية: «وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما، ولو ملك مائة درهم وعشرة دنانير أو مائة وخمسين درهما وخمسة دنانير أو خمسة عشر دينارا أو خمسين درهما تضم إجماعا كذا في الكافي. ولو كان له مائة درهم وعشر دنانير قيمتها أقل من مائة درهم تجب الزكاة عندهما وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - اختلفوا فيه والصحيح أنه تجب كذا في محيط السرخسي.» (1/ 179)