زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کا حکم

فتوی نمبر :
95679
| تاریخ :
2026-05-24
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کا حکم

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! عرض یہ ہے کہ ہماری شادی کو 16 سال ہو چکے ہیں ،اس وقت ہم نے تین تولہ سونا 60 ہزار کا لیا تھا اور ایک تولہ سونا 28 ہزار کا لیا تھا ،اس وقت سے لے کر ابھی تک ہم نے اس کی زکوۃ نہیں دی ہے ، کیونکہ ہمارے پاس نقدی رقم اس وقت بھی نہیں تھی اور اب بھی نہیں ہے، ابھی ہم سونے کو بیچ کر اس رقم سے گھر خرید رہے ہیں۔ کیا پچھلے سالوں کی زکوۃ ہم پر فرض ہے یا نہیں ؟اگر ہے تو کس حساب سے وہ نکالیں گے؟ سونا میری بیوی کی ملکیت ہے اورگھر بھی اسی کی ملکیت ہوگی ،مہربانی فرما کر اس مسئلے کا حل ہمیں بتا دیجیے۔ جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بیوی کی ملکیت میں صرف تین تولہ سونا ہو ،اس کے علاوہ چاندی ، مال تجارت ، نقدی میں سے کچھ بھی موجود نہ ہو ،تو ایسی صورت میں فقط اس تین تولہ سونے پر زکاۃ واجب نہ ہوگی۔ البتہ اگر مذکور سونے کے ساتھ سائل کی بیوی کی ملکیت میں کبھی کچھ نقدی، چاندی، یا مال تجارت میں سے کچھ آیا ہوتوچونکہ مجموعی مالیت نصاب کےبقدر ہونے کی وجہ سےسائل کی بیوی پرزکوٰۃ لازم ہوچکی تھی، چنانچہ اگر اگلے سال اسی قمری تاریخ کو بیوی کی ملکیت میں مذکور اشیاء میں سے کچھ موجود ہو ، اور اب تک اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہوتو ا یسی صورت میں موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق سائل کی بیوی کے ذمہ گزرے ہوئے تمام سالوں کی زکوٰۃ اڑھائی فیصد کے حساب سے ادا کرنالازم ہوگا۔ جسکا طریقہ کار یہ ہے کہ مذکور سونے کی موجودہ مارکیٹ ریٹ معلوم کر کےپہلے سال کی طرف سے اس سے ڈھائی فیصد کے حساب سے مال الگ کرلیا جائے ،پھر دوسرے سال کی زکوٰۃ میں پچھلے سال کا ڈھائی فیصد منہا کرنے کے بعد جو مال باقی بچے ، اس کا ڈھائی فیصد حصہ الگ کرلیا جائے، اس طرح تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال؛ لما روي في حديث عمرو بن حزم «والذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر» وكان الدينار على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقوما بعشرة دراهم. وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعلي: «ليس عليك في الذهب زكاة ما لم يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال»، الخ ( فصل كان له ذهب مفرد، ج: 2، ص: 18، مط: سعید کراچی)
و فیہ ایضاً : لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين و إنما له و لاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء و الصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا اھ(فصل صفة الواجب في أموال التجارة، ج: 2، ص: 22، مط: سعید کراچی)۔
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما،الخ (الباب الثالث فی ذکاۃ الذھب والفضۃ والعروض ، ج: 1، ص :179 ، مط: ماجدیہ)۔
وفی المبسوط للسرخسی: ثم اختلفوا في كيفية الضم، فقال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى -: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد باعتبار الأجزاء وهو إحدى الروايتين عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى – الخ ،( زكاة الحلي، ج: 2، ص: 193، مط: دار المعرفة - بيروت، لبنان)
وفی الدر المختار: وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه۔
وفی ردالمحتارتحت قولہ(وهو الأصح): وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندهما(باب زكاة الغنم، ج:2، ص: 286، مط: ایچ ایم سعید کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95679کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات