زکوۃ و نصاب زکوۃ

چھ تولہ سونے پر زکوۃ واجب ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
96832
| تاریخ :
2026-06-26
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

چھ تولہ سونے پر زکوۃ واجب ہونے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:حضرت، مسئلہ کچھ اس طرح ہے کہ میری شادی 8 ربیع الثانی 2010ء میں ہوئی تھی۔ اس وقت میری اہلیہ کو جو کل سونا ملا (جس کی وہ مالک بنیں)، وہ تقریباً 6 تولہ تھا اور آج بھی تقریباً وہی سونا اسی طرح موجود ہے۔ اس موقع پر مبارکباد کے طور پر کچھ نقد رقم ملی تھی، جو غالباً 10 سے 15 ہزار روپے کے درمیان ہوگی، اور وہ رقم دو چار مہینوں میں ختم ہو گئی۔ اس کے بعد سے سلسلہ ایسے چل رہا ہے کہ میں نے آج تک اہلیہ کو نقد رقم جیب خرچی کے طور پر نہیں دی۔ وہ خواتین اور بچیوں کو پڑھاتی ہیں، تو وہاں سے کبھی کسی بچی کا قرآن ختم ہوا تو کوئی تحفہ مل گیا، ساتھ میں 1000، 1500 یا 2000 روپے مل گئے، یا ویسے ہی کبھی خدمت کے طور پر کسی نے 1000۔2000 روپے پکڑا دیے، اور وہ ساتھ ہی خرچ ہو جاتے تھے، کبھی پاس جمع نہیں رہے۔ ہفتے دس دن کے اندر ختم ہو جاتے تھے۔ اسی طرح عیدِ فطر کے موقع پر عیدی ملتی تھی جو 5 سے 6 ہزار روپے ہوتی تھی، کبھی زیادہ سے زیادہ 10 ہزار ہو گئی ہوگی۔ اس میں بھی نیت یہ ہوتی تھی کہ برقع لینا ہے، بچی کے کپڑے لینے ہیں، یا بچے کے سینڈل لینے ہیں۔ اس طرح کر کے وہ رقم بھی دو تین ہفتوں کے اندر ختم ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ پاس کبھی اور کوئی رقم جمع نہیں رہی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ہمارے لیے زکوۃ کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟ کیا گزشتہ سالوں کی زکوۃ بنتی ہے یا نہیں؟ اگر بنتی ہے تو کتنی بنتی ہے اور کس طرح ادا کرنی ہے؟ آپ رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بیوی کی ملکیت میں صرف مذکورہ چھ (6) تولہ سونے کا زیور ہی ہو، اس زیور کے علاوہ ان کے پاس کوئی نقدی، چاندی یا مالِ تجارت موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں ان پر اس سونے کی زکوۃ لازم نہیں ہے ۔البتہ، اگر قمری سال کے شروع میں اس سونے کے ساتھ کچھ رقم بھی موجود ہو، اور سال کے آخر میں 8 ربیع الثانی کے اختتام پر بھی کچھ رقم موجود ہو (خواہ سال کے دوران وہ رقم خرچ ہوتی رہی ہو)، تو ایسی صورت میں سونے اور اس رقم کی مجموعی مالیت دیکھی جائے گی۔ اگر ان دونوں کی مشترکہ مالیت ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو جائے،(جوکہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے)تو شرعاً ان پر چاندی کے نصاب کے حساب سے زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی ور نہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی نور الایضاح:"شروط وجوبها الإسلام والبلوغ والعقل والحرية وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحاجته الأصلية نام ولو تقديرا، شروط وجوب أدائها حولان الحول القمري على النصاب الأصلي بحيث يوجد في طرفي الحول، ولونقص في وسطه".اھ( كتاب الزكاة، باب شروط وجوبها،ص: 120، ط. دار الحكمة)
و فی الدر المختار:"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام)۔۔۔(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد."اھ(كتاب الزكوة :ج:2،ص:261،ط: سعید)
وفیہ ایضا:"(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة)."اھ(كتاب الزكوة،باب زکاۃ المال، ج:2،ص:295،ط: سعید)
و فی فتاوی عالمگیری:"(وأما شروط وجوبها...(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه...ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة...(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة، وكذا الجوهر واللؤلؤ والياقوت والبلخش والزمرد ونحوها إذا لم يكن للتجارة." اھ(كتاب الزكاة ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:1، ص:171 ، 172 ، ط :دارالفکر بیروت)
و فی فتاوی عالمگیری:"وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما، ولو ملك مائة درهم وعشرة دنانير أو مائة وخمسين درهما وخمسة دنانير أو خمسة عشر دينارا أو خمسين درهما تضم إجماعا كذا في الكافي. ولو كان له مائة درهم وعشر دنانير قيمتها أقل من مائة درهم تجب الزكاة عندهما وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - اختلفوا فيه والصحيح أنه تجب كذا في محيط السرخسي."اھ(كتاب الزكاة ،الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض،ج:1،ص:179،ط:دارالفکر بیروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96832کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات