زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروبار میں زکوٰۃ صرف منافع پر ہوگی یا سرمایہ پر بھی ہوگی؟

فتوی نمبر :
97670
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروبار میں زکوٰۃ صرف منافع پر ہوگی یا سرمایہ پر بھی ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے یکم رمضان کو چار لاکھ روپے کاروبار میں لگایا، ایک سال بعد پچاس ہزار روپے وصول ہوگئے ، اب زکوٰۃ وصول شدہ رقم یعنی پچاس ہزار پر واجب ہوگی ؟ یا پوری رقم (یعنی جو کاروبار میں لگی ہوئی ہے) پر ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اصل رقم اور اس سے جو منافع حاصل ہوا، دونوں پر زکوٰۃ فرض ہے، لہذا سائل پر لازم ہے کہ وہ سال پورا ہونے پر ساڑھے چار لاکھ روپے کا چالیسواں حصہ (11250) زکوٰۃ ادا کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، الخ (1/175)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الماجد حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97670کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات