السلام علیکم! میں کماتی نہیں ہوں اور میرے پاس اتنا سونا بھی نہیں ہے کہ اس کو بیچ کر زکوۃ ادا کروں۔ میرے شوہر بولتے ہیں کہ اس سونے کو مشکل وقت کے لیے سنبھال کر رکھو، تو وہ میری زکوۃ خود ادا کرتے ہیں۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا اگر میرے شوہر میری زکوۃ دیتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے؟ کیونکہ ان پر زکوۃ نہیں ہے۔
سائلہ کے شوہر اگر سائلہ کی اجازت و رضامندی سے سائلہ کی زکوٰۃ ادا کر دیں تو ایسا کرنا شرعاً جائز اور درست ہے اور اس سے سائلہ کے ذمہ واجب الادا زکوۃ ادا ہوجائے گی ۔
کما فی بدائع الصنائع: أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب،اخ(فصل زكاة الزروع والثمار،ج:2،ص:53،ط:ماجدیۃ)
و فی البناية :فإن قلت: الزكاة عبادة تجزئ فيها النيابة، فلم لا يجوز أداء الولي عنهما بسبيل النيابة؟ قلت: النيابة تثبت باختيار المنوب عنه، أو بإقامة الشرع النائب مقام المنوب عنه جبرا ولم يوجد.(فصل فی وجوب الزكاة على الفور أم التراخي،ج:3،ص:298،ط:دار اکتب العلمیۃ)