زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سےایمبولینس یا طبی آلات خرید نے حکم

فتوی نمبر :
99527
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سےایمبولینس یا طبی آلات خرید نے حکم

محترم مفتی صاحب! ہمارا ایک فلاحی ادارہ ہے، جو تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے، اس ادارے کے تحت ایک ایمبولنس سروس ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ایمبولنس کی تعداد کم اور اس کی طلب کافی زیادہ ہے، لیکن ادارے کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ مزید ایمبولنس خرید سکے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ ادارہ زکوٰۃ کی رقم سے ایمبولنس اس کے آلات ،ادویات اور دیگر جان بچانے والے آلات خرید سکتا ہے یا نہیں ؟ادارہ زکوٰۃ فنڈ سے مستحقین لوگوں کی طرف سے ایمبولینس کا کرایہ بھی ادا کرتا ہے، جس کی صورت یہ ہوتی ہے، کہ ادارہ پہلے ان لوگوں سے پوچھتا ہے کہ آپ زکوٰۃ کے مستحق ہے یا نہیں ؟ تو ہاں کے جواب میں ادارہ میں موجود زکوٰۃ فنڈ کا شعبہ کرایہ وصول کرنے والے شعبہ کو زکوٰۃ کے فنڈ سے مستحق کی طرف سے کرایہ کی ادائیگی کردیتا ہے، جو کہ مستحق کی اجازت سے کی جاتی ہے، کیا یہ طریقہ درست ہے؟
کیا اس کرایہ کی مد میں جمع شدہ رقم سے ہم ادارے کے لیے ضرورت کی اشیاء مثلا، ایمولینس ، آکسیجن گیس دوائیاں، اور دیگر جان بچانے والے آلات خرید سکتے ہیں؟ براہ مہربانی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں شکریہ۔


الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زکوٰۃ کی ادائیگی درست ہونے کے لیے مستحق کو مالک وقابض بنانا شرط ہے، اور ایمبولینس یا طبی آلات خرید کر وقف کرنے میں تملیک نہیں پائی جاتی، اس لیے یہ طریقہ اختیار کرنے کی صورت میں زکوٰۃ دینے والےکی زکوٰۃ اداء نہ ہوگی، البتہ کرایہ کی مد میں جو رقم جمع ہو، اس سے مذکور آلات وادویہ کی خریداری کی جاسکتی ہے، اور یہ شرعاً بھی جائز ہے ، جبکہ کرایہ لینے کے لیے اگر الگ شعبہ قائم ہو، تو سوال میں مذکور طریقہ طے کرنے کے بعد زکوٰۃ فنڈ سے بھی اس کی ادائیگی کی جاسکتی ہے، اور اس طرح کرنے سے شرعاً زکوٰۃ بھی اداء ہوجائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) الخ (2/344)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه الخ (2/344)۔
وفی الدرالمختار: (هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم الخ (2/257)۔
و فی فتح القدیر: قولہ (لانعدام التملیک) و ھو الرکن فان اللہ تعالی سماھا صدقة وحقیقة الصدقة تملیک المال من الفقیر الخ (2/207)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدشعیب گل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 99527کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات