زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر فقط سونا موجود ہو اس کے علاوہ کوئی نقدی وغیرہ نہ ہو تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
25445
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر فقط سونا موجود ہو اس کے علاوہ کوئی نقدی وغیرہ نہ ہو تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس ساڑھے سات تولہ سے کم مقدار میں سونا موجود ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی معتد بہ رقم موجود نہیں، جواس کی ضروریات اصلیہ سےزائد ہو کے اس کے پاس سال بھر موجود رہے، توکیا زید اس حالت میں صاحب نصاب ہوگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زید کے پاس مذکور سونے کی علاوہ کچھ چاندی ،نقدی، مال تجارت، وغیرہ نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ردالمحتار: تحت (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه ولو كان نقصانا يسيرا يدخل بين الوزنين؛ لأنه وقع الشك في كمال النصاب فلا حكم بكماله مع الشك بحر عن البدائع. الخ (2/295)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 25445کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات