کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس ساڑھے سات تولہ سے کم مقدار میں سونا موجود ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی معتد بہ رقم موجود نہیں، جواس کی ضروریات اصلیہ سےزائد ہو کے اس کے پاس سال بھر موجود رہے، توکیا زید اس حالت میں صاحب نصاب ہوگا یا نہیں؟
زید کے پاس مذکور سونے کی علاوہ کچھ چاندی ،نقدی، مال تجارت، وغیرہ نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه ولو كان نقصانا يسيرا يدخل بين الوزنين؛ لأنه وقع الشك في كمال النصاب فلا حكم بكماله مع الشك بحر عن البدائع. الخ (2/295)۔