السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ایک شخص نے یکم جمادی الثانی کو زکوٰۃ کا حساب کرنا تھا لیکن تب وہ حساب کتاب نہیں کر سکا , اس کے پاس اس تاریخ کو مثلاً 1000 ڈالر موجود تھے , تو پوچھنا یہ ہے کہ اگر اب وہ زکوٰۃ کا حساب کتاب کرے تو کون سے ایکسچینج ریٹ کا اعتبار ہو گا ؟ یکم جمادی الثانی والا یا آجکل کی تاریخ والا ؟(کیونکہ زکوٰۃ پاکستانی روپوں میں ادا کرنی ہے)
زکوۃ کے حساب میں اشیاء کی اسی دن کی مارکیٹ ویلیو معتبر ہوتی ہے،جس دن زکوۃ کاحساب کر کے ادائیگی کی جائے،لہذا سائل نے بھی اگر یکم جمادی الثانی کو زکوۃ کا حساب کرکے ادائیگی نہ کی ہو تو اب جس دن بھی سائل زکوۃ کا حساب کرکے ادائیگی کرے گا اسی دن کی قیمت فروخت سے حساب لگانا لازم ہوگا -