میرا بھائی جو کہ باہر ملک میں کام کرتا ہے، انھوں نے اپنی بچت سے اپنے لئے ایک پلاٹ خریدا ہے، اب یہ نہیں پتہ کہ وہ اسے مستقبل میں فروخت کردینگے یا اس پر گھر تعمیر کرینگے؟ ایسے پلاٹ کی زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟
سائل کے بھائی نے اگر مذکور پلاٹ متعین طور پر فروخت کرنے کی نیت سے نہ خریدا ہو ، تو اس پر زکوۃ لازم نہیں ہے۔واللہ اعلم