جس طرح زیورات پر زکوٰۃ ہوتی ہے اس طرح اگر کسی کے پاس ۳۰ ہزار کی قیمت والا ایک سوٹ ہو ، اسی طرح اس کے پاس پانچ عدد سوٹ ہیں یعنی ہر ایک سوٹ ۳۰ ہزار کا ہے ان کی قیت لاکھ سے اوپر ہوجاتی ہے ، تو کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟
مالِ زکوٰہ کیلئے ’’نامی‘‘ یعنی بڑھنے والا ہونا شرط ہے اور مذکورہ کپڑوں میں یہ شرط مفقود ہے اس لئے ان میں زکوٰۃ واجب نہیں البتہ ضرورت سے زائد ہونے کی وجہ سے ایسے کپڑوں کی مالکہ پر صدقہ فطر اور قربانی کرنا واجب ہے۔
قال فی البدائع: ولنا أن معنی النماء والفضل عن الحاجة الأصلیة لا بد منہ لوجوب الزکوٰة لما ذکرنا من الدلائل ولا یتحقق ذٰلک فی ھذہ الأموال. (ج۲، ص۳۹۴)