محترم جناب مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ ہم ایک فلاحی ادارہ چلارہے ہیں جس کے ذریعے برادری کے مستحقین کو شادی بیاہ، تعلیمی، طبّی، رہائشی اور راشن کے اخراجات کی مد میں مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، اس ادارے کی ذرائع آمدنی کوئی نہیں تمام امداد کی فراہمی کیلئے زکوٰۃ،فطرہ اور قربانی کی کھالیں جمع کرکے رقوم جمع کی جاتی ہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا ادارے کے دفتری اخراجات مثلاً ملازمین کی تنخواہیں، یوٹیلٹی بلز، مراسلات کی ترسیل، دفتر کا کرایہ وغیرہ تمام اخراجات کیلئے عطیات کی مد میں جمع ہونے والی رقوم کافی نہیں، تو کیا زکوٰۃ، صدقاتِ فطر یا قربانی کی کھالوں کی رقم یا ان میں سے کسی ایک رقم کو مذکور اخراجات میں استعمال کیا جاسکتا ہے؟ امید ہے اس مسئلہ پر تفصیل سے روشنی ڈال کر ہماری رہنمائی فرمائیں گے۔ شکریہ!
زکوٰۃ، صدقہ فطر اور قربانی کی کھالوں کی رقم مذکور رادارے کے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات میں بلا تملیک استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ دیگر عطیات اور نفلی صدقات یا عام ممبران سے ماہانہ چندہ کی مد میں جو رقم ملتی ہے اسے مذکور اخراجات میں صَرف کیا جاسکتا ہے۔
کما فی الدر المختار: ویشترط أن یکون الصرف (تملیکًا) لا إباحة کما مرالخ
وفی رد المحتار: تحت (قولہ تملیکا) فلا یکفی فیہا الإطعام إلا بطریق التملیک (إلی قولہ) کبناء القناطر والسقایات واصلاح الطرقات. الخ (ج۲، ص۳۴۴)