میرے والد نے کچھ پلاٹ شہر سے باہر کچھ سوسائٹیوں میں قسطوں پر خریدیں ہیں ، اس غرض سے کہ شہر کے اندر کوئی مناسب مکان ملے تو ان پلاٹس کو بیچ کر ان پیسوں سے شہر کے اندر اپنی رہائش کے لیے مکان خریدیں۔ ( پیسے اگر گھر یا بینک میں رکھتے تو خرچ ہو جاتے اس وجہ سےپلاٹ خریدے کہ پیسے خرچ بھی نہ ہو اور ڈیویلیوں بھی نہ ہوں) تو ان پلاٹس کا کیا حکم ہے؟ ان پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی مطلع فرماکر ممنون فرمائیں۔
سائل کے والد نے مذکور پلاٹ چونکہ آگے بیچنے کی نیت سے خریدے ہیں، اس لئے زکوۃ کی تاریخ تک اگر سائل کے والد کی یہ نیت برقرار رہے، تو اس وقت پلاٹوں کی جو موجودہ مالیت ہو گی اس میں سے واجب الاداء قسطیں منھا کرنے کے بعد سائل کے والد کے ذمہ بقیہ مالیت پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ کی ادائیگی لازم اور ضروری ہو گی۔
کما في رد المحتار: إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول اهـ ( ج ۲، ص ٢٦٢ ، ط: سعيد)۔
وفي الجوهرة النيرة : قوله وان كان ماله اكثر من الدين زكى الفاضل اذا بلغ نصاباً الخ (كتاب الزكاة،
ص ١٤٠ ، ط: حقانية)۔