زکوۃ و نصاب زکوۃ

گھر فروخت ہونےکے بعد اس سے حاصل شدہ مالیت پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
81763
| تاریخ :
2025-03-02
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گھر فروخت ہونےکے بعد اس سے حاصل شدہ مالیت پر زکوۃ کا حکم

کرائے کے گھر کی قیمت پر زکوٰۃ۔ اب جو پیسہ گھر بیچنے پر حاصل ہوا ہے، کیا وہ زکوٰۃ کے قابل ہے؟ پہلے کرائے پر زکوٰۃ دی جاتی تھی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں! کرایہ کا گھر فروخت کرکے جو رقم حاصل ہوئی ہے،اگر وہ خود بقدرِ نصاب ہو یا دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ مل کر بقدرِ نصاب ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول، وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. اهـ. (2/ 262)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81763کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات