کرائے کے گھر کی قیمت پر زکوٰۃ۔ اب جو پیسہ گھر بیچنے پر حاصل ہوا ہے، کیا وہ زکوٰۃ کے قابل ہے؟ پہلے کرائے پر زکوٰۃ دی جاتی تھی۔
جی ہاں! کرایہ کا گھر فروخت کرکے جو رقم حاصل ہوئی ہے،اگر وہ خود بقدرِ نصاب ہو یا دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ مل کر بقدرِ نصاب ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔
ففی حاشية ابن عابدين: فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول، وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. اهـ. (2/ 262)